مانسہرہ نیوز ڈیسک : پی ٹی اے کا سخت انتباہ، سم کے غلط استعمال کی مکمل ذمہ داری رجسٹرڈ مالک پر عائد ہوگی۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 25 اور 26 دسمبر 2025 کو ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی موبائل سم کے غلط استعمال کی مکمل قانونی ذمہ داری اس شخص پر عائد ہوگی جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کرنا ٹیلی کام قوانین کی خلاف ورزی تصور ہوگا اور اس پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
پی ٹی اے کی ہدایت کے مطابق اہم نکات درج ذیل ہیں:
قانونی ذمہ داری:
سم جس شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے، وہی تمام کالز، میسجز، ڈیٹا استعمال اور اس نمبر سے منسلک کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوگا۔
رجسٹریشن لازمی:
تمام موبائل سمز کا اصل صارف کے اپنے نام پر رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ، سم کی بندش یا عدالتی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
فراڈ کی روک تھام:
پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد موبائل فون کے ذریعے ہونے والے مالی فراڈ، سائبر کرائم اور ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانا ہے، جہاں اکثر رجسٹرڈ مالکان لاعلمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
سمز کی تصدیق:
صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی تمام فعال سمز کی تصدیق کریں اور اگر کوئی سم غلط طور پر رجسٹرڈ ہے تو اسے قریبی فرنچائز، کسٹمر سروس سینٹر یا پی ٹی اے کے آن لائن ویریفیکیشن پورٹل کے ذریعے درست کروائیں۔
سمز کی حد:
موجودہ قوانین کے تحت ایک شناختی کارڈ (CNIC) پر زیادہ سے زیادہ پانچ وائس سمز اور تین ڈیٹا سمز رجسٹر کرانے کی اجازت ہے۔
پی ٹی اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف ذاتی مشکلات بلکہ سنگین قانونی مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے، لہٰذا تمام صارفین فوری طور پر اپنی سم رجسٹریشن کی جانچ یقینی بنائیں۔