سردیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی اور لکڑی ذخیرہ کرنے کا روایتی کام

79

ایبٹ آباد: نومبر کا آغاز ہوتے ہی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، بالخصوص وادی گھمبر میں شدید سردی کی لہر ڈیرے ڈال چکی ہے۔ دھوپ ڈھلتے ہی درجہ حرارت میں نمایاں کمی کے باعث مقامی آبادی نے سردیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی اور لکڑی ذخیرہ کرنے کا روایتی کام تیز کر دیا ہے۔

گلیات کے علاقے گھمبیر اور دیگر دیہی علاقوں میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث لکڑی ہی گھروں کو گرم رکھنے، کھانا پکانے اور پانی گرم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ مقامی رہائشیوں نے اپنے کچے مکانات اور مخصوص کمروں میں لکڑیوں کے انبار جمع کر رکھے ہیں تاکہ برف باری کے دوران گزر بسر ممکن ہو سکے۔ تاہم، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اب ایندھن کا حصول پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو چکا ہے۔

مقامی شہریوں نے بتایا کہ لکڑی کی کمی اور قیمتوں میں اضافے نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ان کے مطابق اب دیہات میں شادی بیاہ جیسی تقریبات کے لیے منوں کے حساب سے لکڑی جمع کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، جس کے لیے انہیں یا تو اپنے درخت کاٹنے پڑتے ہیں یا مہنگے داموں لکڑی خریدنی پڑتی ہے۔ علاقے میں متبادل توانائی کے ذرائع نہ ہونے کے باعث عوام اب بھی اسی روایتی اور کٹھن طریقے پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں