مانسہرہ کے نواحی علاقے غازیکوٹ سے 15 فروری کو پُراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے نوجوان کی لاش برآمد کر لی گئی۔ مقتول کی شناخت علی جدون کے نام سے ہوئی ہے، جو نثار خان جدون کے بیٹے اور وقاص جدون و فیضان جدون کے بھائی تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق علی جدون کی لاش جھاری کس کے علاقے سے ملی، جس پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کو بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسم کی متعدد ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ناخن بھی نکالے گئے تھے، جس سے واقعے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ ابتدائی تفتیش کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کی گئی، جبکہ پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس افسوسناک واقعے پر اہلِ علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں اور لواحقین نے ذمہ داران کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا پولیس کے اعلیٰ حکام بالخصوص آئی جی خیبر پختونخوا سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
غازیکوٹ سے لاپتہ ہونے والے نوجوان کی تشدد زدہ لاش برآمد، اہلِ علاقہ میں شدید غم و غصہ
5