Mansehra.com مانسہرہ ڈاٹ کام
21 ربیع الثانی 1448 ہجری اتوار، 4 اکتوبر 2026·20 اسو
آج کی حدیث سول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کر دیتا ہے۔“ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر0 284
تازہ ترین
کالمز

ہزارہ کی تاریخ: اصل وارث کون؟ 1872ء کے بندوبست سے اٹھتے سوالات

04-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 31 وزٹ
Read in English
ہزارہ کا خطہ اپنی قدیم تاریخ، قبائلی روایات اور مختلف ادوار کی سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آج کے ہزارہ ڈویژن میں شامل مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام، ہری پور اور تورغر کے علاقوں کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے، جس میں مختلف قبائل، خاندانوں اور حکمرانوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
تاریخی روایات میں ہزارہ کے قدیم سیاسی خطے کے لیے پکھلی سرکار کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق اس خطے میں ترک حکمران خاندانوں، خصوصاً قارلغ یا کارلغ ترکوں، کا اثر و رسوخ رہا۔ اسی طرح سواتی قبائل کی آمد اور بعد میں پکھلی کے سیاسی اقتدار میں تبدیلی بھی ہزارہ کی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھی جاتی ہے۔
وقت کے ساتھ ہزارہ میں مختلف قبائل آباد ہوئے اور انہوں نے یہاں اپنی بستیاں، زرعی زمینیں اور سماجی نظام قائم کیے۔ سواتی، تنولی، جدون، گجر، کڑلال، سید اور دیگر برادریاں اس خطے کی تاریخی شناخت کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ اسی وجہ سے ہزارہ کی تاریخ کو صرف کسی ایک قوم یا قبیلے کی تاریخ قرار دینا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔
1849ء میں سکھ اقتدار کے خاتمے کے بعد ہزارہ برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام آگیا۔ برطانوی دور میں علاقے کی زمین، آبادی، قبائلی تقسیم اور ملکیتی حقوق سے متعلق مختلف سرکاری ریکارڈ اور بندوبستی دستاویزات مرتب کی گئیں۔ ان دستاویزات میں 1872ء کا بندوبست بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس دور کے ریکارڈ سے علاقے کی آبادی اور زمینوں کے انتظام کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
اسی تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے میجر ویس (Major Wace) کی رپورٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس رپورٹ میں گجر برادری کو ہزارہ کے قدیم باشندوں میں شمار کیا گیا۔ تاہم کسی تاریخی رپورٹ یا ایک مخصوص دستاویز کی بنیاد پر پورے خطے کا واحد "اصل مالک" متعین کرنا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے اصل دستاویزات اور دیگر مستند تاریخی ذرائع کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔
ہزارہ کی تاریخ میں زمین اور قبائلی ملکیت کا تصور بھی موجودہ دور کے "مالک" کے تصور سے مختلف تھا۔ مختلف علاقوں میں زمین کے حقوق، مقامی حکمرانی، قبائلی اثر و رسوخ اور آبادکاری کے نظام الگ الگ صورتوں میں موجود رہے۔ اس لیے "اصل مالک" کی اصطلاح استعمال کرتے وقت تاریخی دور اور اس زمانے کے قانونی و سماجی نظام کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ ہزارہ کی موجودہ شناخت کسی ایک تاریخی گروہ سے نہیں بنی۔ صدیوں کے دوران مختلف قبائل اور برادریوں نے اس خطے میں آباد ہو کر اس کی ثقافت، زبان، معیشت اور معاشرتی ڈھانچے کو تشکیل دیا۔ آج کا ہزارہ انہی مشترکہ تاریخی اثرات کا نتیجہ ہے۔
تاریخ ہمیں تقسیم کرنے کے بجائے اپنے ماضی کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ اگر 1872ء کے بندوبست، برطانوی دور کی سرکاری رپورٹس، قدیم مقامی روایات اور دیگر تاریخی دستاویزات کو ایک ساتھ رکھ کر تحقیق کی جائے تو ہزارہ کی تاریخ کے کئی ایسے پہلو سامنے آسکتے ہیں جو عام طور پر عوامی گفتگو میں نظر انداز ہوجاتے ہیں۔
لہٰذا سوال صرف یہ نہیں کہ "ہزارہ کا اصل مالک کون تھا؟" بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ مختلف ادوار میں اس خطے میں کون آباد رہا، کس کے پاس سیاسی اختیار تھا، زمین کے حقوق کس نوعیت کے تھے، اور مختلف قبائل نے ہزارہ کی تشکیل میں کیا کردار ادا کیا۔
ہزارہ کی مٹی کئی نسلوں کی مشترکہ تاریخ کی گواہ ہے۔ اس تاریخ کو تعصب یا نفرت کے بجائے تحقیق، دستاویزات اور باہمی احترام کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہی طریقہ ہمیں اپنے ماضی کو بہتر طور پر سمجھنے اور آنے والی نسلوں تک ایک متوازن تاریخی تصویر پہنچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
تحریری نوٹ: اس کالم میں بیان کردہ بعض تاریخی دعوے مختلف روایات اور حوالوں پر مبنی ہیں۔ حتمی تاریخی نتیجے کے لیے اصل بندوبستی ریکارڈ، سرکاری رپورٹس اور مستند تاریخی کتب سے تصدیق ضروری ہے۔

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔

اعلانِِ فوتگی