پاکستان
حذیفہ رحمان کا انکشاف: پی ٹی آئی نے نئے وزیراعلیٰ کے لیے اکبر ایوب کا نام طے کر لیا؟
24-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
26 وزٹ
Read in English
گورنر راج چھ ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہ سکتا ہے، وفاقی وزیر مملکت کا دعویٰ؛ سرکاری بیانات اور آئینی تشریح میں مدت کے حوالے سے اختلاف
اسلام آباد: وفاقی وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے لیے اکبر ایوب کا نام طے کر لیا ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کی جانب سے اس نام کے حوالے سے ایسی کوئی خواہش سامنے نہیں آئی۔
تاہم، اکبر ایوب کو نئے وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیے جانے کے دعوے کی پی ٹی آئی یا کسی متعلقہ سرکاری ادارے کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے آنے تک اسے ایک غیر مصدقہ سیاسی دعویٰ ہی تصور کیا جائے گا۔
گورنر راج کی مدت چھ ماہ سے بڑھ سکتی ہے؟
حذیفہ رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے گورنر راج کی آئینی مدت اور اس میں توسیع کے طریقۂ کار سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ اور اس کی مدت کے لیے مخصوص آئینی شرائط موجود ہیں۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین بھی بیان دے چکے ہیں کہ گورنر راج چھ ماہ سے ایک دن بھی آگے نہیں جا سکتا۔
گورنر راج کی مدت اور اس میں ممکنہ توسیع کے حوالے سے حتمی قانونی صورتحال کا تعین متعلقہ آئینی دفعات اور قابلِ اطلاق قانونی طریقۂ کار کی روشنی میں کیا جانا ضروری ہے۔
اکبر ایوب کون ہیں؟
اکبر ایوب کا تعلق ضلع ہری پور سے ہے اور وہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں چیف وہپ کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا نام نئے وزیراعلیٰ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے آنے کا دعویٰ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صوبے کی سیاسی صورتحال اور گورنر راج کے حوالے سے بحث جاری ہے۔
خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی معاملات گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے ذریعے چلائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
تاہم، صوبائی اسمبلی کی موجودہ آئینی حیثیت، گورنر راج کے نفاذ کی قانونی بنیاد اور انتظامی اختیارات کی تفصیلات کی الگ سے سرکاری تصدیق ضروری ہے۔
اہم وضاحت
حذیفہ رحمان سے منسوب اکبر ایوب کے نام اور گورنر راج کی مدت سے متعلق بیانات کو فی الحال ان کے ٹی وی ٹاک شو میں کیے گئے دعووں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے نئے وزیراعلیٰ کے نام کی باضابطہ تصدیق اور گورنر راج کی مدت سے متعلق متعلقہ حکام کی وضاحت سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے لیے اکبر ایوب کا نام طے کر لیا ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کی جانب سے اس نام کے حوالے سے ایسی کوئی خواہش سامنے نہیں آئی۔
تاہم، اکبر ایوب کو نئے وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیے جانے کے دعوے کی پی ٹی آئی یا کسی متعلقہ سرکاری ادارے کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے آنے تک اسے ایک غیر مصدقہ سیاسی دعویٰ ہی تصور کیا جائے گا۔
گورنر راج کی مدت چھ ماہ سے بڑھ سکتی ہے؟
حذیفہ رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے گورنر راج کی آئینی مدت اور اس میں توسیع کے طریقۂ کار سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ اور اس کی مدت کے لیے مخصوص آئینی شرائط موجود ہیں۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین بھی بیان دے چکے ہیں کہ گورنر راج چھ ماہ سے ایک دن بھی آگے نہیں جا سکتا۔
گورنر راج کی مدت اور اس میں ممکنہ توسیع کے حوالے سے حتمی قانونی صورتحال کا تعین متعلقہ آئینی دفعات اور قابلِ اطلاق قانونی طریقۂ کار کی روشنی میں کیا جانا ضروری ہے۔
اکبر ایوب کون ہیں؟
اکبر ایوب کا تعلق ضلع ہری پور سے ہے اور وہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں چیف وہپ کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا نام نئے وزیراعلیٰ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے آنے کا دعویٰ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صوبے کی سیاسی صورتحال اور گورنر راج کے حوالے سے بحث جاری ہے۔
خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی معاملات گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے ذریعے چلائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
تاہم، صوبائی اسمبلی کی موجودہ آئینی حیثیت، گورنر راج کے نفاذ کی قانونی بنیاد اور انتظامی اختیارات کی تفصیلات کی الگ سے سرکاری تصدیق ضروری ہے۔
اہم وضاحت
حذیفہ رحمان سے منسوب اکبر ایوب کے نام اور گورنر راج کی مدت سے متعلق بیانات کو فی الحال ان کے ٹی وی ٹاک شو میں کیے گئے دعووں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے نئے وزیراعلیٰ کے نام کی باضابطہ تصدیق اور گورنر راج کی مدت سے متعلق متعلقہ حکام کی وضاحت سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں