پولیس
ہزارہ بالخصوص مانسہرہ میں امن کی اپیل، شہریوں کا حکومت اور پولیس سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ
07-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
28 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: ہزارہ ڈویژن، بالخصوص مانسہرہ میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک شہری نے حکومت خیبرپختونخوا اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے مؤثر اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
اپنے بیان میں شہری نے کہا کہ مانسہرہ میں دن دہاڑے جرائم اور قتل و غارت کے واقعات کے باعث عام شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق غریب اور عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، جبکہ جرائم کی روک تھام اور قانون کی عمل داری کے حوالے سے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حکومت خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ، انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ سے مطالبہ کیا کہ مانسہرہ میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
شہری نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں امن دیں اور مانسہرہ کے عوام کو تحفظ فراہم کریں۔”
انہوں نے کہا کہ ہزارہ کے عوام بالخصوص مانسہرہ کے شہری پرامن ماحول میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
نوٹ: یہ خبر ایک شہری کی جانب سے جاری کیے گئے بیان اور مطالبے پر مبنی ہے۔ بیان میں کیے گئے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر میں شامل نہیں۔
اپنے بیان میں شہری نے کہا کہ مانسہرہ میں دن دہاڑے جرائم اور قتل و غارت کے واقعات کے باعث عام شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق غریب اور عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، جبکہ جرائم کی روک تھام اور قانون کی عمل داری کے حوالے سے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حکومت خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ، انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ سے مطالبہ کیا کہ مانسہرہ میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
شہری نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں امن دیں اور مانسہرہ کے عوام کو تحفظ فراہم کریں۔”
انہوں نے کہا کہ ہزارہ کے عوام بالخصوص مانسہرہ کے شہری پرامن ماحول میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
نوٹ: یہ خبر ایک شہری کی جانب سے جاری کیے گئے بیان اور مطالبے پر مبنی ہے۔ بیان میں کیے گئے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر میں شامل نہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں