Mansehra.com مانسہرہ ڈاٹ کام
23 ربیع الثانی 1448 ہجری منگل، 6 اکتوبر 2026·22 اسو
آج کی حدیث سول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کر دیتا ہے۔“ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر0 284
تازہ ترین

بٹل پولیس حراست میں مبینہ تشدد سے زخمی نوجوان ہسپتال میں زیرعلاج، ریکارڈ میں پانچ روز سے ڈسچارج ظاہر

06-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 41 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: بٹل تھانے میں پولیس کی زیرِ حراست مبینہ تشدد سے زخمی ہونے والا نوجوان محمد شبیر ولد محمد اشرف، جو تشدد کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر ہے، کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ کے یورالوجی ڈیپارٹمنٹ میں زیرِ علاج ہے، تاہم ہسپتال کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر گزشتہ پانچ روز سے اسے ڈسچارج ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع اور متاثرہ خاندان کے مطابق محمد شبیر کو 30 ستمبر 2026 سے کنگ عبداللہ ہسپتال کے یورالوجی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کیا گیا تھا۔ تاہم دعویٰ کیا گیا ہے کہ داخلے کے دوسرے ہی روز متعلقہ وارڈ کے ڈاکٹر کفیل اظہر نے مریض کی فائل پر ڈسچارج درج کردیا، جبکہ محمد شبیر تاحال ہسپتال میں موجود اور زیرِ علاج ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب 30 ستمبر کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے ایم ایس کنگ عبداللہ ہسپتال کو پولیس تشدد سے زخمی نوجوان کا تفصیلی طبی معائنہ کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
متاثرہ نوجوان کے مطابق مبینہ تشدد کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے اور اسے گردوں سے متعلق بھی تکلیف کا سامنا ہے۔ دوسری جانب نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر محمد نزیر علوی نے مبینہ طور پر نوجوان کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اسے ہسپتال میں زیرِ علاج رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
میڈیا اور انسانی حقوق کی ٹیم کا ہسپتال کا دورہ
اس معاملے پر میڈیا اور پولیس کی زیرِ حراست مبینہ تشدد کا شکار افراد کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کی ٹیم نے کنگ عبداللہ ہسپتال کا دورہ کیا۔ ٹیم نے یورالوجی ڈیپارٹمنٹ میں زیرِ علاج محمد شبیر اور اس کے بھائی محمد رفاقت سے ملاقات کی اور مبینہ پولیس حراست، تشدد اور اس کے بعد پیدا ہونے والی طبی صورتحال سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔
ٹیم کے مطابق ہسپتال کے دورے کے دوران یہ مشاہدہ بھی سامنے آیا کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر زخمی نوجوان اور اس کے اہلِ خانہ کو بیڈ خالی کرکے گھر جانے کی ترغیب دی جا رہی تھی۔ متعلقہ ڈاکٹر کی جانب سے ٹیم کو بھی مریض کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی مؤقف سے آگاہ کیا گیا۔
بعد ازاں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ٹیم نے متاثرہ نوجوان کے وکیل کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں محمد شبیر کے والد محمد اشرف سے ملاقات کرکے کیس اور مبینہ پولیس تشدد سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔
میڈیکولیگل ماہرین کا مؤقف
اس معاملے پر میڈیکولیگل ماہرین کے مطابق اگر کسی زیرِ علاج زخمی شخص کو طبی طور پر ہسپتال میں موجود ہونے کے باوجود ریکارڈ میں ڈسچارج ظاہر کیا گیا ہے تو اس صورتحال کے قانونی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی صورتحال مبینہ طور پر کیس کے ذمہ دار افراد کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جبکہ متاثرہ خاندان کو قانونی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم اس حوالے سے حتمی صورتحال متعلقہ طبی ریکارڈ، عدالتی کارروائی اور ذمہ دار اداروں کے مؤقف کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
ہسپتال انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش
ہزارہ ایکسپریس نیوز کی ٹیم نے معاملے کے حقائق جاننے کے لیے کنگ عبداللہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جواد مجید سواتی کے دفتر کا دورہ کیا، تاہم وہ دفتر میں موجود نہیں تھے۔
ایم ایس کے پی ایس راجہ ظہور نے ٹیم کو بتایا کہ ڈاکٹر جواد مجید سواتی ڈپٹی کمشنر آفس گئے ہوئے ہیں اور ٹیم کو ڈی ایم ایس ڈاکٹر امجد سے رابطہ کرنے کا کہا گیا۔
بعد ازاں ڈاکٹر امجد کے دفتر سے بھی رابطہ کیا گیا، تاہم وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ فون پر رابطہ ہونے پر ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ وہ ایک شادی کی تقریب میں موجود ہیں اور ٹیم کو ڈاکٹر الیاس قریشی سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔
جب ٹیم نے ڈاکٹر الیاس قریشی سے ملاقات کرکے معاملے پر ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ تحریری درخواست جمع کرائی جائے، جس کے بعد تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
واقعے کے حوالے سے پولیس کا مکمل مؤقف، متعلقہ طبی ریکارڈ اور عدالت میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔

اعلانِ فوتگی