بٹل کے دو نوجوانوں کی المناک موت، عوام غم و غصے سے نڈھال

30

بٹل کے دو نوجوانوں کی المناک موت نے پورے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ تاریخی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اپنے دکھ اور غصے کا بھرپور اظہار کیا۔
عوام کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والا ایک نوجوان تقریباً ایک گھنٹے تک سڑک کنارے بے یار و مددگار پڑا رہا، مگر نہ کوئی ایمبولینس پہنچی اور نہ ہی متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کی۔ بعد ازاں زخمی کو ایک سوزوکی ڈالہ میں ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔



نمازِ جنازہ کے بعد شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سیاسی قیادت اور ذمہ دار اداروں پر تنقید کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بٹل کے عوام اب اپنے وسائل سے چندہ جمع کرکے علاقے کے لیے ایمبولینس کا انتظام کریں گے، مگر مزید کسی کے سامنے درخواستیں نہیں کریں گے۔

مقررین نے کہا کہ بٹل کے ہسپتال کو بہتر بنانے کے بجائے مسلسل نظرانداز کیا گیا، جس کے باعث عوام بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں صحت کی سہولیات کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی خاندان کو ایسے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں