اسلام آباد: ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی چیٹ بوٹس سے گفتگو کے دوران “براہِ کرم”، “شکریہ” اور دیگر غیر ضروری شائستگی کے الفاظ کا زیادہ استعمال کمپیوٹنگ توانائی کی کھپت میں اضافہ کرتا ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر صارفین چیٹ بوٹس کے ساتھ گفتگو میں اضافی الفاظ کا استعمال کم کریں تو سالانہ تقریباً 87 سے 98 گیگا واٹ آور (GWh) بجلی کی بچت ممکن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر معمولی دکھائی دینے والے اضافی الفاظ، جب دنیا بھر کے کروڑوں صارفین روزانہ استعمال کرتے ہیں، تو مجموعی طور پر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چیٹ بوٹس ہر لفظ اور جملے کو “ٹوکنز” (Tokens) کی صورت میں پراسیس کرتے ہیں۔ جتنے زیادہ الفاظ استعمال کیے جائیں گے، اتنی ہی زیادہ کمپیوٹنگ طاقت اور توانائی درکار ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر اور واضح سوالات نہ صرف تیز تر جوابات میں مدد دیتے ہیں بلکہ توانائی کے استعمال کو بھی کم کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ شائستگی کے الفاظ استعمال کرنا سماجی اور اخلاقی اعتبار سے مثبت رویہ سمجھا جاتا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر ان کا اضافی استعمال ڈیٹا سینٹرز پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے، جس سے بجلی کی کھپت اور ماحولیاتی اثرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ صارفین چیٹ بوٹس سے بات چیت کے دوران اپنے سوالات مختصر، واضح اور مقصدی رکھیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے نظام زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں اور توانائی کی بچت بھی ممکن ہو سکے۔
Disclaimer: یہ رپورٹ عوامی طور پر دستیاب بیانات اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ معلومات کی تصدیق متعلقہ سرکاری یا مستند ذرائع سے بھی کریں۔
اے آئی چیٹ بوٹس سے غیر ضروری شائستگی کے الفاظ توانائی کے استعمال میں اضافہ کرتے ہیں، ماہرین.
29