اے آئی اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے پنجاب پولیس کی ساکھ پر خطرناک ڈیجیٹل حملہ، فوری کارروائی کا مطالبہ.

28

زیرِ نظر ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور خطرناک ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا مبینہ مجرمانہ استعمال کرتے ہوئے پنجاب پولیس کی آفیشل یونیفارم میں ایک خاتون کو بطور “ایس ایچ او” ظاہر کر کے نازیبا رقص اور غیر اخلاقی ویڈیوز وائرل کی جا رہی ہیں۔ یہ معاملہ محض چند ویوز یا لائکس کے حصول تک محدود نہیں بلکہ ایک قومی ادارے کی ساکھ، وقار اور عوامی اعتماد پر براہِ راست ڈیجیٹل حملہ ہے، جس کے دور رس اور منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی میں اب بھی عوام کی ایک بڑی تعداد اے آئی اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی حقیقت سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔ چنانچہ بہت سے لوگ ان جعلی ویڈیوز کو حقیقت سمجھ کر دھڑا دھڑ شیئر کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پنجاب پولیس کے خلاف منفی تاثر اور زہریلی رائے عامہ تشکیل پا رہی ہے۔ عوام کی اسی ناواقفیت کا فائدہ اٹھا کر ادارے کے تشخص اور امیج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پنجاب پولیس کی یونیفارم قانون کی حکمرانی، نظم و ضبط اور شہداء کی قربانیوں کی علامت ہے۔ اس مقدس یونیفارم کو سستی شہرت، تفریح یا غیر اخلاقی مواد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف لاکھوں پولیس افسران بلکہ فورس میں خدمات انجام دینے والی لیڈی پولیس افسران کے وقار اور خودداری کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
قومی سلامتی کے تناظر میں بھی یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا سائبر کرائم اور سیکیورٹی خطرہ ہے۔ اگر آج ایک فرضی “ایس ایچ او” کی جعلی ویڈیوز کے ذریعے ادارے کو بدنام کیا جا سکتا ہے تو کل اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے اعلیٰ حکام کی جعلی ویڈیوز اور آڈیوز بنا کر امن و امان اور ریاستی اداروں کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا اس فتنے کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکنا ناگزیر ہے۔

میری آئی جی پنجاب، پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت اور نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سے پرزور اپیل ہے کہ اس معاملے کا فوری اور سخت ترین نوٹس لیا جائے۔ ڈیجیٹل فارنزک کے ذریعے مذکورہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ کو آپریٹ کرنے والے عناصر کا سراغ لگایا جائے، اکاؤنٹ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور پیکا ایکٹ کے تحت ایسی مثالی سزا دی جائے جو مستقبل میں کسی بھی فرد کو ریاستی اداروں کے تشخص اور یونیفارم کے غلط استعمال سے باز رکھنے میں مؤثر ثابت ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں