بابر شاہ قتل کیس: کروڑوں کی پیشکش بھی ایک باپ کو اپنے بیٹے کے خون کا سودا نہ کروا سکی.

28

سن 2022ء میں ایبٹ آباد کے علاقے شیخ البانڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان بابر شاہ کو سربن ٹاپ پر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایبٹ آباد بلکہ پورے خطے کے لیے ایک ہولناک سانحہ تھا۔ تاہم، اس سفاکانہ قتل کیس میں ایک ہفتہ قبل ملزم شک کا فائدہ ملنے پر باعزت بری ہو گیا۔
بابر شاہ کے قتل کے ساتھ ہی ایک خاندان کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے اجڑ گئیں۔ بائیکیا سروس چلا کر رزقِ حلال کمانے والے ایک غریب باپ کی کل کائنات اس کا بیٹا تھا، جو ایک لمحے میں اس سے چھن گیا۔ ایسی آزمائش جس کا تصور بھی انسان کی روح کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
وقت گزرتا رہا، مقدمہ عدالتوں میں چلتا رہا، امیدیں بندھتی اور ٹوٹتی رہیں، مگر انصاف کے منتظر اس باپ کو انصاف نہ مل سکا۔ اس کے باوجود اس نے اپنے ضمیر، اپنی غیرت اور اپنے بیٹے کی یاد کا سودا نہیں کیا۔ اسے لالچ دی گئی، کروڑوں روپے کی پیشکشیں کی گئیں، صلح اور سمجھوتے کے مختلف راستے دکھائے گئے، مگر اس باپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
“میں اپنے بیٹے کے خون کا سودا نہیں کروں گا۔”
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک باپ کی غیرت، کردار اور اپنے بچے سے سچی محبت کی لازوال داستان ہے۔ غربت، مشکلات اور روزگار کی جدوجہد کے باوجود اس نے اپنے ضمیر کو زندہ رکھا اور حق کے لیے ڈٹا رہا۔
آج بھی وہ باپ یہ یقین رکھتا ہے کہ اگر دنیا کی عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو ایک دن اللہ کی عدالت ضرور لگے گی، جہاں نہ سفارش چلے گی، نہ طاقت، نہ دولت اور نہ اثر و رسوخ۔ وہاں صرف حق بولے گا اور مظلوم کی فریاد سنی جائے گی۔
سلام ہے ایسے باپ کو، جس نے اپنے بچے کے خون کی قیمت لگنے نہیں دی۔
سلام ہے اس غیرت کو، جو دولت کے سامنے نہیں جھکی۔
سلام ہے اس حوصلے کو، جو ظلم کے سامنے ڈٹا رہا۔
آج بھی وہ مظلوم باپ بائیکیا سروس چلا کر رزقِ حلال کما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مظلوم کو انصاف عطا فرمائے، ہر والدین کو ایسی آزمائش سے محفوظ رکھے اور حق کے راستے پر چلنے والوں کو صبر و استقامت نصیب فرمائے۔
بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔
تحریر: سردار مجتبیٰ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں