بجٹ 2026: اگر غریب کی زندگی نہ بدلے تو اعداد و شمار کی کامیابی بے معنی ہے.

22

بجٹ 2026 اُس وقت تک عوام دوست نہیں کہلا سکتا جب تک یہ مزدور کی مزدوری میں آسانی، غریب کی مجبوری میں کمی اور عام آدمی کی زندگی میں حقیقی بہتری نہ لا سکے۔ اگر بجٹ صرف کاغذوں، تقریروں اور اعداد و شمار تک محدود رہے تو یہ حکومتی کامیابی تو ہو سکتی ہے، لیکن عوام کی کامیابی ہرگز نہیں۔
آج ملک کا ایک بڑا طبقہ شدید مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ایک مزدور دن بھر سخت محنت کے باوجود اپنے بچوں کے لیے معیاری تعلیم، مناسب علاج اور دو وقت کی باعزت روٹی کا انتظام کرنے سے قاصر ہے۔ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جو بیماری کی صورت میں علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، جبکہ بعض اوقات موت کی صورت میں کفن اور تدفین کے اخراجات پورے کرنا بھی ان کے لیے ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے۔
حکمران طبقے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ سرکاری اعداد و شمار میں معاشی ترقی کے دعوے اُس وقت تک بے معنی ہیں جب تک ان کے ثمرات عام شہری تک نہ پہنچیں۔ ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ بجٹ کا حجم کتنا بڑھ گیا یا ٹیکس وصولیوں کے اہداف کتنے بلند ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوئی، اس کی قوتِ خرید میں کتنا اضافہ ہوا اور اس کے بنیادی مسائل میں کتنی کمی آئی۔
عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس بجٹ میں غریب، مزدور، پنشنرز، بے روزگار نوجوانوں، چھوٹے تاجروں اور سفید پوش طبقے کے لیے کیا حقیقی ریلیف موجود ہے؟ کیا اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی آئے گی؟ کیا بجلی، گیس اور ادویات سستی ہوں گی؟ کیا مزدور کی اجرت میں ایسا اضافہ ہوگا جو مہنگائی کے تناسب سے اس کی ضروریات پوری کر سکے؟ کیا صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں عام آدمی کے لیے عملی سہولیات فراہم کی جائیں گی؟
خدا ا خوف کرو، اے حکمرانو! تم لاکھوں روپے کے لباس اور پروٹوکول میں زندگی گزارتے ہو، جبکہ اسی ملک کا ایک غریب باپ اپنے بیمار بچے کی دوا، اپنی بیٹی کی تعلیم اور گھر کے راشن کے لیے دربدر ہے۔ ایک ریاست کی کامیابی کا معیار بلند عمارتیں، بڑے منصوبے یا خوبصورت اعلانات نہیں، بلکہ وہ سکون اور وقار ہے جو وہ اپنے کمزور اور محروم شہریوں کو فراہم کرتی ہے۔
اگر بجٹ 2026 غریب کے چولہے میں حرارت، بیمار کے لیے علاج، مزدور کے لیے باعزت روزگار اور سفید پوش طبقے کے لیے معاشی آسودگی پیدا نہیں کر سکتا، تو پھر یہ صرف کاغذوں میں کامیاب بجٹ ہے، عوام کی زندگی میں نہیں۔
ریاست کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کو سہارا دے، کیونکہ جب غریب کی آہ بڑھ جاتی ہے تو اعداد و شمار اور دعوے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں، اور تاریخ صرف یہ یاد رکھتی ہے کہ مشکل وقت میں حکمران اپنے عوام کے ساتھ کھڑے تھے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں