خیبر پختونخوا کے ایک ڈپٹی کمشنر کی جانب سے اپنے دفتر میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان (MNAs/MPAs) کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں اس اقدام پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے اس فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ “سیاسی لوگ مجھے اچھے نہیں لگتے۔” ان کے اس بیان نے بھی معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ منتخب عوامی نمائندے اپنے حلقوں کے عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ایسے میں ان کے دفتر میں داخلے پر پابندی کے فیصلے نے کئی قانونی اور انتظامی سوالات کو جنم دیا ہے۔
تاحال متعلقہ ضلعی انتظامیہ یا حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے اس فیصلے کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سیاسی حلقے اس معاملے پر مزید وضاحت اور حقائق سامنے آنے کے منتظر ہیں۔
اگر حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی نیا مؤقف یا اعلامیہ جاری کیا گیا تو خبر کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا: ڈپٹی کمشنر کا ممبرانِ اسمبلی کے دفتر میں داخلے پر پابندی کا فیصلہ، سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی.
28