ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوسرے روز ان کے تین بیٹوں، مصطفیٰ خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مسعود خامنہ ای نے شرکت کی، جبکہ چوتھے بیٹے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تینوں بیٹے تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھے گئے تابوتوں کے پیچھے نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے، جہاں ملک بھر سے بڑی تعداد میں عوام نے بھی شرکت کر کے سابق سپریم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی کی وجہ ممکنہ سیکیورٹی خدشات اور اسرائیل کی جانب سے مبینہ دھمکیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر کم ہی نظر آئے ہیں۔
جنازے میں شریک افراد نے ایرانی پرچموں کے ساتھ سرخ پرچم بھی اٹھا رکھے تھے، جنہیں بعض حلقے مزاحمت اور انتقام کی علامت قرار دیتے ہیں۔ تقریب کے دوران شرکاء کی جانب سے سیاسی نعرے بھی لگائے گئے۔
ایرانی حکومت کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے لیے ایک ہفتے پر مشتمل خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ سرکاری منصوبے کے تحت میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا کے علاوہ ایران کے مذہبی مراکز قم اور مشہد بھی لے جایا جائے گا، جبکہ تدفین 9 جولائی کو متوقع ہے۔
آخری رسومات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی سمیت متعدد اعلیٰ سیاسی، عسکری اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
تہران میں عوام کی بڑی تعداد نے سابق سپریم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تدفین کے موقع پر بھی لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیشِ نظر سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا دوسرا روز، تین بیٹوں کی شرکت، مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی پر قیاس آرائیاں
24