اسلام آباد پولیس نے نائنتھ ایونیو پر پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم کے قتل میں ملوث 21 سالہ ملزم سعد عباسی کو گرفتار کر لیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد ناصر علی رضوی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم سعد عباسی اور خاتون نمرہ جی-6 میں واقع ایک کیش اینڈ کیری اسٹور میں ملازمت کرتے تھے اور پہلے بھی ایک ساتھ کام پر آتے جاتے رہے تھے، جبکہ دونوں کے گھر بھی ایک دوسرے کے قریب واقع تھے۔
آئی جی کے مطابق واقعے کے روز ملزم مبینہ طور پر خاتون کو زبردستی کسی اور مقام پر لے جانا چاہتا تھا۔ شاہین چوک کے قریب دونوں کے درمیان بحث و تکرار شروع ہوئی اور خاتون کی مزاحمت پر ملزم کو موٹرسائیکل روکنی پڑی۔
انہوں نے بتایا کہ گروپ کیپٹن عاصم نے سڑک پر ملزم کو خاتون کا ہاتھ کھینچتے دیکھا تو اپنی گاڑی موڑ کر مداخلت کی۔ اس دوران ملزم کچھ آگے گیا، پھر واپس آ کر ڈرائیونگ سیٹ کے قریب سے گروپ کیپٹن عاصم پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
آئی جی اسلام آباد کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل بھی ملزم پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی میانوالی لے جانے کی کوشش کا ریکارڈ موجود تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران بتایا گیا کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ملزم نے مبینہ طور پر منظم منصوبہ بندی کی، جس میں بس کا ٹکٹ خریدنا، لباس تبدیل کرنا، موبائل فون بند کرنا اور سیکیورٹی اداروں کو دھوکا دینے کے لیے دیگر اقدامات شامل تھے۔




پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
اسلام آباد: گروپ کیپٹن عاصم کے قتل میں ملوث ملزم سعد عباسی گرفتار، آئی جی اسلام آباد نے واقعے کی تفصیلات بتا دیں.
23