🟥 مانسہرہ میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال، کاغان اور وادی سرن میں متعدد پل بہہ گئے، گھروں اور دکانوں کو نقصان.

31

مانسہرہ: 19 جولائی 2026 کو ہونے والی شدید بارشوں کے باعث ضلع مانسہرہ کے مختلف علاقوں، خصوصاً وادی کاغان اور وادی سرن میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے انفراسٹرکچر اور املاک کو نقصان پہنچایا، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
وادی کاغان کے درمیانہ گاؤں میں سیلابی ریلہ
ضلعی انتظامیہ کے مطابق دوپہر تقریباً 2 بجے درمیانہ گاؤں کے مقامی نالے “کٹھا” میں اچانک شدید سیلابی ریلہ آیا، جس سے چار لکڑی کے عارضی پل بہہ گئے، جبکہ کنکریٹ کے پل (کازوے) کے پیچھے پانی جمع ہونے سے نشیبی آبادی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے۔
انتظامیہ نے فوری طور پر ریسکیو 1122، کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ریونیو عملہ اور وی سی سیکرٹری سمیت متعلقہ اداروں کو متحرک کیا۔ ارلی وارننگ سسٹم فعال کیا گیا اور مساجد کے ذریعے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
بعد ازاں پانی کے شدید دباؤ سے کنکریٹ کا پل/کازوے ٹوٹ گیا، جس سے پانی کا بہاؤ بحال ہوگیا اور بڑے پیمانے پر ممکنہ تباہی ٹل گئی۔ تاہم اس سے قبل پانی متعدد گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا، جس کے باعث جزوی مالی نقصان ہوا۔
ابتدائی تخمینے کے مطابق:
2 کنکریٹ کے پل/کازوے متاثر یا تباہ ہوئے۔
4 لکڑی کے عارضی پل بہہ گئے۔
متعدد رہائشی گھر اور دکانیں جزوی طور پر متاثر ہوئیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق نقصانات کے مکمل تخمینے کے لیے سروے جاری ہے اور تفصیلی رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔
وادی سرن کے مولی کٹھا میں بھی سیلابی ریلہ
اسی روز صبح وادی سرن کے علاقے مولی کٹھا میں کیچمنٹ ایریا میں شدید بارش کے باعث اچانک سیلابی ریلہ آیا، جس سے 2 سے 3 رہائشی مکانات اور ایک ہوٹل جزوی طور پر متاثر ہوا۔
ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور علاقے کی مسلسل نگرانی کی۔ اس واقعے میں بھی کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ متاثرہ املاک اور انفراسٹرکچر کے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران ندی نالوں، برساتی گزرگاہوں اور خطرناک مقامات سے دور رہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں