اسلام آباد – یہ بظاہر مولوی کبھی پاکستان کا سچن ٹنڈولکر کہلاتا تھا۔ اس کا ذکر اشوریہ رائے اپنی فلم دھوم میں کرتی ہے۔ یہ کھلاڑی دنیا میں سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ بنانے کے سفر پر گامزن تھا اور اس نے ون ڈے کرکٹ میں 194 رنز کا ریکارڈ انڈیا کے خلاف انڈیا میں بنایا، تو اسے توڑنے میں خود سچن ٹنڈولکر کو 13 سال کا عرصہ لگا۔ اور عمران خان اسے پاکستان کا برین لارا کہتا اور سچن کے ہم پلہ سمجھتے تھے۔
شاندار بلے باز کا تعارف
اس شاندار بلے باز کا نام سعید انور تھا، جس نے ہوش تہران میں سنبھالی اور زیادہ شوق بھی سکواش اور ٹینس میں تھا، لیکن پھر اچانک کرکٹ میں آ گیا۔ وہ بھی اسے وقت جب وہ اپنی ماسٹر ڈگری کے لیے امریکہ جانے کا ارادہ کر چکا تھا۔
لیکن قدرت نے اسے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے چن لیا اور کرکٹ کی دنیا میں جہاں کھلاڑی میٹرک پاس بھی بمشکل ہوتے ہیں، وہاں اس کی انٹری ہی گریجویشن کے ساتھ ہوئی تھی۔
ماڈرن کرکٹر
سعید انور نہایت سلجھا ہوا، ماڈرن کرکٹر سمجھا جاتا تھا اور اس کی شادی بھی ایک ماڈرن لڑکی ڈاکٹر لبنیٰ سے ہوئی اور ان کی جوڑی بھی کمال لگتی تھی۔
انجریز اور ذاتی سانحہ
لیکن ایک سلم سمارٹ سعید انور کو شاہین شاہ آفریدی کی طرح مسلسل کھیلایا گیا، تو اس کی انجریز مستقل نوعیت کی شکل اختیار کر گئیں، جو اس کا آدھا کرکٹ کیریئر کھا گئیں۔ اور باقی کا اس کی کمسن بیٹی کی وفات نگل گئی۔
وہ کئی مہینے کھیل سے دور رہا اور جب واپسی ہوئی تو بڑی گھنی داڑھی میں شارجہ کرکٹ گراؤنڈ کا سیکورٹی گارڈ بھی پہچان نہ سکا، حالانکہ وہ اس وقت پوسٹر بوائے تھا۔
مذہبی رجحان اور تنقید
اب چکنے سعید انور کی مولوی سعید انور نے جگہ بنائی تو اس کی ہر ناکامی کی ذمہ داری آج کے محمد رضوان کی طرح تبلیغی اور مذہبی رجحان پر ڈالی گئی۔
اور وہ کھلاڑی جو عمران خان کی طرح ورلڈ کپ جیت کر ریٹائرمنٹ لینا چاہتا تھا، وہ گلے شکوے کے ساتھ الوداع ہوا۔
یہی تو پاکستان انڈیا کی کرکٹ کا خاصہ ہے، جہاں دھونی جیسا مہان کپتان بھی سوشل میڈیا پر پل دو پل کے مہمان کی صورت میں ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور ہوا۔
بیٹی کے غم کا مداوا
سعید انور نے اپنی بیٹی کے غم کا مداوا اسلامی تعلیمات اور تبلیغ میں ڈھونڈا اور ان میں اتنا مشغول ہوا کہ آج کی نئی نسل اسے نہیں جانتی۔
اور جو جانتی بھی ہے، وہ بھی اسے صائم ایوب کے بیٹنگ اسٹائل سے جانتی ہے۔ وہ خود بھی کرکٹ اور میڈیا سے مکمل دور ہو گیا، کیونکہ وہ اب خود کو ان سب سے آزاد سمجھتا ہے اور ایک الگ دنیا کا باسی ہے۔
ذاتی رائے
میرے ذاتی خیال میں سعید انور کو بیٹی کے انتقال کے غم میں وہ طلبِ سکون ملا، یا کسی نے اسلامی رجحان کی طرف مائل کیا، اور سعید انور اسی طرف ڈٹ گیا۔
ایک شاندار کھلاڑی جو تاریخ ساز نہ بن سکا۔ جس میں کچھ قصور قسمت کا اور کچھ کرکٹ بورڈ کا بھی ہے۔


پاکستان کا سچن ٹنڈولکر” جو مولوی سعید انور بن گیا — بیٹی کے غم نے کرکٹ سے دور کر دیا.
24