🚨 عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیش رفت، ڈرائیور کو مبینہ ہنی ٹریپ کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کا انکشاف.

3

لاہور میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما چوہدری عبداللہ طاہر کے قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمان نے مقتول کی نقل و حرکت، روزمرہ معمولات اور سیکیورٹی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے ڈرائیور اصغر کو ایک 22 سالہ لڑکی کے ذریعے مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کیا۔
ذرائع کے مطابق لڑکی نے تقریباً دو ماہ قبل ٹک ٹاک کے ذریعے ڈرائیور سے رابطہ کیا اور اعتماد میں لینے کے بعد مبینہ طور پر عبداللہ طاہر کی نقل و حرکت اور معمولات سے متعلق معلومات حاصل کرتی رہی۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ واردات کے روز کلینک پہنچنے کے بعد ڈرائیور اور لڑکی کے درمیان ویڈیو کال بھی ہوئی، جس کے دوران مبینہ طور پر عبداللہ طاہر کی کلینک میں موجودگی اور ان کے ساتھ سیکیورٹی گارڈز نہ ہونے کی تصدیق کی گئی۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور اس دوران گرومانگٹ روڈ پر موجود تھے، جبکہ مقتول کی مبینہ ریکی کے لیے ڈرون کیمرے کے استعمال کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
پولیس نے ڈرائیور اصغر سے تفصیلی پوچھ گچھ کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم مرکزی ملزم اور مبینہ شوٹر تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کے تمام پہلوؤں اور ذمہ دار افراد کے کردار سے متعلق مزید حقائق سامنے آئیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں