لاہور ایوانِ عدل کے باہر عمران خان کی سیاسی قید کے تین سال مکمل ہونے پر وکلا اور شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں ریحانہ ڈار اور ان کی بیٹی بھی شریک ہوئیں۔
ریحانہ ڈار کی بیٹی نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور انہیں گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کی والدہ کے ساتھ بھی مبینہ طور پر تشدد آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی شہری ہیں اور سوال اٹھایا کہ احتجاج کے دوران بار بار انہیں اور ان کی والدہ کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پولیس وین کی جانب لے جاتے ہوئے ریحانہ ڈار کو
مبینہ طور پر دھکا دیا گیا، جس پر انہوں نے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔
بیٹی کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ نے مشکل صورتحال کے باوجود عمران خان کے حق میں نعرے لگائے اور وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
انہوں نے پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنے والے شہریوں کے ساتھ قانون کے مطابق اور احترام پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے۔