پشاور – وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی انتظامیہ کے تحت سرکاری افسران اور اہلکاروں کے خلاف جاری احتسابی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔
اجلاس کے دوران پیش کی گئی سرکاری بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ اکتوبر 2025ء سے اب تک صوبے کے مختلف محکموں میں کل 827 کیسز پر کارروائی کی گئی ۔
· 589 افسران و اہلکاروں کو سنگین بے ضابطگیوں اور غفلت پر قانون کے مطابق سزائیں سنائی گئیں
· 128 ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا
· 6 ملازمین کو جبری ریٹائر کر دیا گیا
· 198 کیسز پر کارروائی کا سلسلہ جاری ہے
بریفنگ کے مطابق، غیر مجاز غیر حاضری (Unauthorized Absence) سب سے بڑا جرم رہا، جس کے 447 کیسز رپورٹ ہوئے جو مجموعی کیسز کا تقریباً 54 فیصد بنتے ہیں ۔
· ڈیوٹی میں غفلت کے 120 کیسز
· کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے 75 کیسز
· نااہلی کے 75 کیسز
اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ جاتی اعتبار سے:
· ضلع دفاتر سے 305 کیسز رپورٹ ہوئے
· منسلک محکموں و اداروں سے 263 کیسز سامنے آئے
· مرکزی محکموں سے 259 کیسز رپورٹ ہوئے
صحت کے شعبے میں فیلڈ وزٹس کے دوران ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال صوابی کے 90 اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لکی مروت کے 61 افسران و اہلکاروں کے خلاف معطلی کی کارروائی کی گئی
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ:
“احتساب سے کوئی بالاتر نہیں، سرکاری نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔”
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر گامزن ہے اور کرپٹ عناصر کے لیے خیبرپختونخوا میں کوئی جگہ نہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ گڈ گورننس، میرٹ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور زیرِ التوا کیسز کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔
جیسے جیسے احتسابی کارروائیاں آگے بڑھیں گی، ہم آپ کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔
پشاور: وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت اجلاس، احتسابی کارروائیوں کا جائزہ، 589 اہلکاروں کو سزائیں.
32