ہریپور – ہریپور سے گمشدہ بچی آیت نور کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم اس کیس کے حوالے سے مقامی افراد اور میڈیا کے درمیان شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
گمشدہ بچی آیت نور کے والد محمد شفیق کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی ہے جس کے بعد انہیں یقین ہوگیا ہے کہ پولیس نے اصل ملزمان کو ہی گرفتار کیا ہے۔
تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس مجبور والد کا چہرہ اور الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، اور ان پر احتجاج کو روکنے کے لیے دباؤ ڈال کر بیان دلوایا گیا ہے۔
مقامی عوام اور سوشل میڈیا صارفین درج ذیل اہم سوالات اٹھا رہے ہیں:
1. اگر مجرم وہی ہیں جو پولیس نے پکڑے ہیں تو بچی اب تک کیوں بازیاب نہیں ہوئی؟
2. پولیس نے محمد شفیق کو جو فوٹیج دکھائی، وہ میڈیا کو کیوں نہیں دی گئی؟
3. مجرموں کے بیانات اتنے افسوسناک ہیں کہ بیان کرنا مشکل ہے — پولیس نے آج تک بچی کو زندہ یا مردہ حالت میں کیوں نہیں ڈھونڈا؟
عوام کا کہنا ہے کہ “کچھ تو دال میں کالا ہے۔”
شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس اتنے بڑے سانحے پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ یا کسی حکومتی وزیر کی جانب سے کوئی نوٹس یا بیان سامنے نہیں آیا۔
“کیا کے پی کے وزیراعلیٰ کا کام صرف اپنی ریلیوں اور دھرنوں کے بارے میں پلاننگ کرنا ہے؟”
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور بچی کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ تاہم شفافیت کی کمی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو عام نہ کرنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ہم اس المناک واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مظلوم خاندان کو جلد انصاف ملے گا.
ہریپور: آیت نور کیس میں والد کے بیان پر تنقید، سی سی ٹی وی فوٹیج نہ دکھانے پر سوالات
24