کھٹمنڈو – نیپال کے وزیراعظم بلندر شاہ کی حکومت حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ایک ایسے امتحان سے دوچار ہے، جس میں ان کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کسوٹی پر آ گئی ہے۔ 26 اگست کو آنے والے سیلابی ریلے نے نیپال میں تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتا ہیں، جبکہ پن بجلی کے منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
آفت کے پیمانے اور حکومتی تیاری
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کے مطابق گزشتہ ہفتے آنے والے سیلاب کے بعد ملک میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 1,050 ہو گئی ہے، جبکہ 3,916 افراد لاپتا ہیں، جن میں 583 غیر ملکی، پن بجلی منصوبوں کے 639 کارکن اور نیپالی فوج و پولیس کے اہلکار شامل ہیں ۔
حکومت نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ اتنے بڑے پیمانے کی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھی۔ اس آفت کو سن 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد نیپال کی سب سے مہلک تباہی سمجھا جا رہا ہے ۔
موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئر پگھلنے کا خطرہ
وزیراعظم بلندر شاہ نے اس تباہی کو موسمیاتی تبدیلی سے منسلک کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اس تباہی کا ایک اہم عنصر ہے” ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہمالیہ کے علاقے میں درجہ حرارت میں 1.8 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور کم مستحکم ہو گئے ہیں، جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیپال گلوبل وارمنگ کے اخراج میں 0.1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، پھر بھی یہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے ۔
پن بجلی کے منصوبوں کو نقصان
اس سیلاب نے نیپال کے پن بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق 12 منصوبوں کے تقریباً 900 کارکن لاپتا ہیں، جن میں سے لگ بھگ 500 افراد سرنگوں میں محصور ہو سکتے ہیں۔ نیپال میں چینی کمپنیوں کے بنائے ہوئے پن بجلی منصوبے بھی اس آفت کی زد میں آئے ہیں، جس سے نیپال کی توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے ۔
امدادی کارروائیاں
امدادی ٹیمیں سرچ ڈاگز اور جدید آلات کی مدد سے ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بھارت نے نیپال کی مدد کے لیے 37.5 ٹن امدادی سامان، ادویات اور خوراک روانہ کیا ہے، جبکہ نیپال کی حکومت نے متاثرہ اضلاع میں ماہر نفسیات تعینات کر کے نفسیاتی بحران سے نمٹنے کی بھی کوشش شروع کر دی ہے ۔
یہ آفت وزیراعظم بلندر شاہ کی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس نے مارچ 2026 میں بدعنوانی مخالف مہم کے بعد اقتدار سنبھالا تھا ۔ ان کی حکومت کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کا فیصلہ اس مشکل وقت میں ہو رہا ہے۔
نیپال کی آفت وزیرِاعظم بلندر شاہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
5