ریاض – سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریاض میں ایک سعودی خاتون مبینہ طور پر انتہائی نامناسب حالت میں سڑک پر نکلی اور سکیورٹی اہلکاروں کے سامنے اسے اپنی “ذاتی آزادی” قرار دیا۔
تاہم اس دعوے کی آزادانہ اور معتبر ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے ویڈیو یا واقعے کو حتمی خبر کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔
سعودی عرب میں خواتین کے لباس اور ذاتی آزادی سے متعلق قوانین اور سماجی رویوں میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ اور بعض دیگر معاملات میں پہلے سے زیادہ آزادی دی گئی ہے، جبکہ عوامی مقامات پر لباس اور طرزِ عمل کے حوالے سے ضوابط اب بھی موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک غیرمصدقہ ویڈیو کی بنیاد پر سعودی خواتین یا پورے معاشرے کے بارے میں عمومی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔ سعودی عرب میں خواتین کے حقوق اور آزادیوں کے حوالے سے اصلاحات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیمیں بعض قانونی اور عملی پابندیوں پر بھی تنقید کرتی رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے سرکاری ذرائع اور معتبر میڈیا کی جانب سے تصدیق کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ اس وقت تک اس خبر کو حتمی حیثیت دینا درست نہیں ہوگا۔
ریاض: سعودی خواتین کے حوالے سے وائرل دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی، معتبر ذرائع خاموش.
21