موسیٰ کا مصلہ: سرچ آپریشن میں انتظامی نااہلی کا المیہ.

27

مانسہرہ – موسیٰ کا مصلہ کے المناک واقعے نے ایک بار پھر ہماری انتظامیہ کی نااہلی اور ادارہ جاتی غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک غیر ملکی سیاح پہاڑ میں گم ہوا، سینکڑوں اہلکار اسے ڈھونڈتے رہے، مگر انتظامیہ کے پاس پہاڑ کا نقشہ تک نہیں تھا! آخر یہ اربوں روپے کس کارکردگی کے لیے خرچ ہوتے ہیں؟
پہاڑ وہیں تھا، مگر نقشہ نہیں تھا!
موسیٰ کا مصلہ کوئی کل دریافت ہونے والا پہاڑ نہیں۔ مانسہرہ کے قریب موجود یہ بلند پہاڑ برسوں سے اپنی جگہ کھڑا ہے۔ اس کے جنگلات ہیں، اس کی چوٹیاں ہیں، اس کی کھائیاں ہیں، اس کے راستے ہیں اور اس علاقے کے رہنے والے لوگ نسلوں سے اسے جانتے ہیں۔
لیکن چند دن پہلے جب دو غیر ملکی سیاح اس کی چوٹی پر پہنچے اور ان میں سے ایک واپس نہ آیا تو ایسا لگا جیسے ہماری انتظامیہ کے سامنے کوئی ایسا علاقہ آگیا ہو جس کا اسے آج تک علم ہی نہیں تھا!
سرچ آپریشن: تماشہ یا کارروائی؟
جب اوپر سے حکم آیا تو مشینری حرکت میں آئی۔ سینکڑوں پولیس اہلکار میدان میں اترے۔ مقامی لوگ شریک ہوئے۔ مختلف محکمے متحرک ہوئے۔ یہاں تک کہ ڈی آئی جی ہزارہ بھی موقع پر پہنچے۔
لیکن اصل تماشہ اس کے بعد شروع ہوا۔
پہاڑ وہیں تھا، مگر انتظامیہ کے پاس پہاڑ کا نقشہ نہیں تھا!
یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ جس علاقے میں سرچ آپریشن ہو رہا تھا، وہاں کون سی کھائی کہاں ہے؟ کون سا راستہ کس مقام پر جاتا ہے؟ کہاں انسانی رسائی ممکن ہے؟ کہاں خطرناک چٹانیں ہیں؟ کہاں سے سرچ شروع ہونی چاہیے؟ کس مقام پر پہلے پہنچنا ضروری ہے؟
مقامی نوجوان، اصلی ماہر!
اگر ایک اعلیٰ پولیس افسر کو کسی علاقے میں سرچ آپریشن کی قیادت کے لیے مقامی نوجوانوں سے رہنمائی لینا پڑے تو یہ مقامی نوجوانوں کی تعریف ضرور ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ یہ سرکاری اداروں کے لیے شرم کا مقام ہے۔
یہ سارے ادارے مقامی نوجوانوں سے سیکھنے کے لیے نہیں، انہیں تحفظ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ مگر یہاں الٹا ہوگیا۔
· مقامی نوجوان پولیس کو راستے بتا رہے تھے۔
· مقامی لوگ سرکاری اہلکاروں کو پہاڑ سمجھا رہے تھے۔
یعنی جن لوگوں نے کبھی اس علاقے کی تنخواہ نہیں لی، وہ اس علاقے کے اصل ماہر نکلے۔ اور جن اداروں کو عوام کے ٹیکسوں سے سالانہ اربوں روپے ملتے ہیں، وہ بنیادی جغرافیہ تک سے بے خبر نظر آئے۔
محکمہ جنگلات بھی بے خبر!
محکمہ جنگلات کا بھی یہی حال ہے۔ جس علاقے کے جنگلات کی حفاظت اس ادارے کی ذمہ داری ہے، کیا اس کے پاس اس علاقے کا مکمل زمینی ریکارڈ، راستوں کی معلومات، حساس مقامات، کھائیاں، پہاڑی گزرگاہیں اور جغرافیائی نقشہ موجود نہیں ہونا چاہیے؟
اگر موجود ہے تو سرچ آپریشن میں اس کا استعمال کہاں تھا؟ اور اگر موجود نہیں ہے تو پھر محکمہ جنگلات آخر کس چیز کی حفاظت کر رہا ہے؟ درخت گننے کی؟ فائلیں بنانے کی؟ دفتر چلانے کی؟ یا صرف بجٹ خرچ کرنے کی؟
اربوں روپے کس لیے؟
یہ سوال تلخ ہیں، مگر عوام نے یہ سوال پوچھنے کا حق کمایا ہے۔ کیونکہ ان اداروں کے اخراجات کسی وزیر یا افسر کی جیب سے نہیں آتے۔
یہ پیسہ اس کسان کا ہے جو ٹیکس دیتا ہے۔
اس مزدور کا ہے جو مہنگائی میں پس رہا ہے۔
·اس دکاندار کا ہے جو ہر خرید و فروخت پر ٹیکس دیتا ہے۔
اس عام پاکستانی کا ہے جو ریاست کے ہر محکمے کا خرچ اپنی جیب سے اٹھاتا ہے۔
اور بدلے میں اسے کیا ملتا ہے؟ ایک غیر ملکی سیاح لاپتہ ہوتا ہے اور ریاست کو اس کا راستہ تلاش کرنے کے لیے مقامی نوجوانوں کی ضرورت پڑتی ہے!
کالم نگار کا سوال
مسعود اقبال مشہدی لکھتے ہیں:
جب وہ شخص پہاڑ کی کسی کھائی میں گرا تو وہ کتنی دیر زندہ رہا ہوگا؟ کیا وہ مدد کے انتظار میں تھا؟ کیا وہ آوازیں دے رہا تھا؟ کیا اس کے پاس پانی تھا؟ کیا وہ زخمی حالت میں پڑا تھا؟ کیا اگر سرچ آپریشن پہلے، زیادہ منظم اور زیادہ سائنسی انداز میں شروع ہوتا تو اسے زندہ نکالا جاسکتا تھا؟”
اب کیا کرنا ہے؟
اب کم از کم یہ تو کیا جائے کہ:
· موسیٰ کا مصلہ اور ہزارہ کے تمام حساس پہاڑی علاقوں کی مکمل جغرافیائی اور ریسکیو میپنگ کی جائے۔
· پولیس، محکمہ جنگلات، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کا مشترکہ ڈیٹا بیس بنایا جائے۔
· مقامی نوجوانوں کو باقاعدہ سرچ اینڈ ریسکیو نظام کا حصہ بنایا جائے۔
· اس واقعے کی ایک غیرجانبدارانہ انکوائری ہونی چاہیے کہ اطلاع ملنے کے بعد پہلے کتنے گھنٹے ضائع ہوئے، سرچ کہاں سے شروع ہوئی، کس بنیاد پر ہوئی، کون سی معلومات دستیاب تھیں اور کیا ایسی کوئی وجہ تھی جس کے باعث تلاش میں تاخیر ہوئی۔
نتیجہ
ایک لاش مل گئی ہے۔ مگر سوال ابھی زندہ ہے۔ اور یہ سوال موسیٰ کے مصلے سے کہیں زیادہ بلند ہے:
اگر ریاست کے پاس اپنے ہی پہاڑ کا نقشہ نہیں، تو پھر عوام اپنے تحفظ کا نقشہ کہاں سے لائیں؟
کالم نگار: مسعود اقبال مشہدی




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں