ایبٹ آباد میں آئس سمیت منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس سے جڑے جرائم پر شہریوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کب کیے جائیں گے؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات صرف ایک فرد کی زندگی کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو متاثر کرتی ہیں۔ بعض حالیہ واقعات میں خاندانی تنازعات اور تشدد کے پس منظر میں منشیات کے استعمال کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، تاہم ہر واقعے کے محرکات کا تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی کی جائے، گرفتار ملزمان کے مقدمات میں قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے جو نوجوان نسل کو منشیات کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
شہریوں کے مطابق صرف گرفتاریاں کافی نہیں، بلکہ منشیات کی سپلائی روکنے، تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کو محفوظ رکھنے، اور منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی کے مؤثر نظام پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ آئس اور دیگر منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعلقہ ادارے کب ایک مؤثر اور مستقل حکمتِ عملی اختیار کریں گے؟



قیمتی انسانی جانوں اور نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے پولیس، انتظامیہ، والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے—سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ایبٹ آباد میں آئس کا بڑھتا ہوا مسئلہ، شہریوں میں تشویش.
23