اسلام آباد – سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ملنے والی مراعات پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ریٹائرڈ ہوتے ہی انہیں درج ذیل مراعات فراہم کی گئی ہیں:
· 10 لاکھ روپے ماہانہ پنشن
· 3000 ٹیلی فون کالز
· 2000 یونٹس بجلی
· 25 ایچ ایم 3 گیس
· پانی کی مفت فراہمی
· 300 لیٹر پٹرول
· مفت طبی سہولیات (فیملی سمیت)
· 8 گھنٹے کی شفٹ کے لیے پولیس کا ایک گارڈ
· ڈرائیور
· کم قیمت پر سرکاری گاڑی (بلکہ گاڑیاں خرید سکتے ہیں)
ٹیکس میں استثنیٰ
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان کی پنشن پر انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔
ان مراعات اور پنشن کے علاوہ ججوں کو ان کے ڈرائیور کی ماہانہ تنخواہ، اضافی/خصوصی پنشن اور اس کے علاوہ طبی الاؤنسز بھی ملتے ہیں۔
عوام پر بوجھ
ان مذکورہ بالا ساری مراعات کو پورا کرنے کے لیے عام شہری چپ چاپ بجلی اور گیس کے مہنگے بل، اور ٹیکسوں کے اوپر ٹیکس بھرتے رہیں گے۔
عوامی سوال
قصہ مختصر، جو چیف جسٹس ہوتے ہوئے بھی قوم کو کچھ نہ دے سکا، قوم اسے ریٹائرمنٹ کے بعد تادمِ مرگ بھی اپنے ٹیکسوں سے پالتی رہے گی۔

یہ ہیں وجوہات جن کی بنا پر عدلیہ اور جرنیل پاکستان میں ترقی نہیں ہونے دیتے۔ کھیل کا اصل چہرہ یہ ہے کہ جب تنخواہ وزیراعظم سے بھی زیادہ ہو اور پنشن بھی لاکھوں تو پاکستان ٹھیک کیوں کریں۔
قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ پر مراعات: قوم کے ٹیکسوں پر بوجھ، عوام کے غم و غصے کا اظہار.
29