وہ رات جب قبرستان کم پڑ گئے تھے — بالاکوٹ 8 اکتوبر 2005.

39

بالاکوٹ – آج 8 اکتوبر ہے۔ بالاکوٹ میں اس دن کی یاد آج بھی تازہ ہے۔
8:50 صبح / جب وقت رک گیا
ہفتہ، 3 رمضان المبارک، 8 اکتوبر 2005۔
گھڑی پر 8 بج کر 50 منٹ اور 38 سیکنڈ۔ ری ایکٹر اسکیل پر 7.6 شدت۔ مرکز مظفرآباد سے 19 کلومیٹر شمال مشرق میں، گہرائی صرف 15 کلومیٹر۔
بالاکوٹ میں اس وقت کیا ہو رہا تھا؟
سکولوں میں اسمبلی ختم ہو کر پہلا پیریڈ شروع ہوا تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول بالاکوٹ، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، شاہین پبلک سکول، قرطبہ سکول — سینکڑوں بچوں نے ابھی قلم کھولا ہی تھا۔
بازار میں رمضان کی وجہ سے رش کم تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اگلے 60 سیکنڈ میں نقشہ بدل جائے گا۔
60 سیکنڈ
ماہرین کہتے ہیں زلزلے کی لہر بالاکوٹ تک پہنچنے میں 12 سیکنڈ لیتی ہے۔ ان 12 سیکنڈ میں زمین نے 1.5 میٹر اوپر اٹھ کر 3 میٹر دائیں سرکنا تھا۔ بالاکوٹ بالکل فالٹ لائن پر بیٹھا تھا۔
60 سیکنڈ۔ بس 60 سیکنڈ میں 30,000 آبادی والا شہر مٹی کا ڈھیر بن گیا۔
سرکاری اعداد کے مطابق:
· پورے پاکستان میں 73,000 شہید
· آزاد کشمیر اور ہزارہ میں 87,000 سے زیادہ
· صرف بالاکوٹ میں ایک دن میں 14,000 جنازے
· 2,400 بچے صرف سکولوں کی عمارتوں کے نیچے
دوپہر 12 بجے سے شام 6 بجے تک — وہ سچ جو کوئی نہ لکھ سکا
جب اسلام آباد میں مارگلہ ٹاور گرنے کی خبر چل رہی تھی، اس وقت بالاکوٹ کا دنیا سے رابطہ کٹ چکا تھا۔
مانسہرہ سے بالاکوٹ تک سڑک 100 جگہ سے بند، پہاڑ ٹوٹ کر سڑک پر آ گرے تھے۔ بجلی، فون، پانی — سب ختم۔
بی بی سی کے رپورٹر مبشر زیدی لکھتے ہیں:
“میں پیدل بالاکوٹ پہنچا تو دیکھا کہ شہر پر دھول کا اتنا بادل تھا کہ سورج نظر نہیں آ رہا تھا۔ لوگ سمجھ رہے تھے شہر پر بمباری ہوئی ہے۔”
دوپہر تک لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانا شروع کیا۔ کوئی کرین نہیں، کوئی ایمبولینس نہیں۔ اذان دینے والی مسجدوں کے مینار گر چکے تھے۔
ہسپتال؟ بالاکوٹ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اپنی 40 لاشوں سمیت خود زمین بوس ہو چکا تھا۔
شام 7 بجے سے صبح 5 بجے تک — وہ 12 گھنٹے جن پر تاریخ خاموش ہے
یہی وہ رات تھی جب قبرستان کم پڑ گئے۔
اندھیرا، سورج غروب ہوتے ہی مکمل اندھیرا چھا گیا۔ پورے شہر میں ایک بلب نہیں۔ سردی، اکتوبر کی سردی کاغان میں ہڈیوں میں اترتی ہے۔ رمضان تھا، لوگوں نے سحری نہیں کی تھی، افطاری نہیں کی تھی۔ زخمی کھلے آسمان تلے پڑے تھے۔
آوازیں، ملبے کے نیچے سے آوازیں آ رہی تھیں۔ ماں اپنے بچے کو پکار رہی تھی، بچہ اپنی ماں کو۔ مگر ہٹانے کو کچھ نہیں۔ لوگوں نے کان لگا کر سنا، پھر خاموشی۔ یہ خاموشی موت سے زیادہ خوفناک تھی۔
قبرستان کا فیصلہ: رات 9 بجے علماء نے اعلان کیا کہ غسل ممکن نہیں، ہر میت کو اجتماعی قبر میں دفنایا جائے۔ مانسہرہ ہائی سکول، بالاکوٹ کالج گراؤنڈ اور کنہار کے کنارے بڑے بڑے گڑھے کھودے گئے۔ ایک قبر میں 20، 30، 50 لوگ۔ ماں بیٹے کے ساتھ، استاد شاگردوں کے ساتھ۔
ایک گواہ کہتا ہے:
“ہم نے گنتی چھوڑ دی تھی۔ ہم صرف جنازہ پڑھتے تھے اور مٹی ڈالتے تھے۔ رات بھر ہمارے ہاتھ کپکپا رہے تھے، کفن کم پڑ گئے تو چادروں میں لپیٹا۔”
اس رات بالاکوٹ میں کوئی سویا نہیں۔ جو زندہ تھے وہ قبریں کھود رہے تھے۔ جو شہید تھے وہ قبر کے منتظر تھے۔
صبح 5 بجے اذان
اکتوبر کی صبح جب پہلی اذان ہوئی تو بالاکوٹ کا نقشہ بدل چکا تھا۔ 80% شہر ختم۔ بازار نہیں، گھر نہیں، سکول نہیں۔ صرف 4 عمارتیں کھڑی تھیں جن میں ایک جامع مسجد تھی جس کا ایک مینار جھکا ہوا تھا۔
پاک فوج کے پہلے ہیلی کاپٹر دوپہر کے بعد پہنچے۔ 18 گھنٹے بعد۔ تب تک جو کرنا تھا، بالاکوٹ کے لوگ اپنے ہاتھوں سے کر چکے تھے۔
آج 20 سال بعد
آج بھی بالاکوٹ میں 8 اکتوبر کو بازار بند ہوتے ہیں۔ صبح 8:52 پر ایک منٹ کی خاموشی ہوتی ہے۔ مانسہرہ ہائی سکول بالاکوٹ کے احاطے میں وہ اجتماعی قبریں آج بھی ہیں، جہاں ہر سال چراغ جلتا ہے۔
سرکار نے کہا تھا “نیو بالاکوٹ سٹی” بنائیں گے، بکڑیال میں۔ 20 سال ہو گئے، وہ شہر آج تک ویران ہے۔ لوگ آج بھی اسی فالٹ لائن پر، اسی کنہار کے کنارے دوبارہ گھر بنا کر بیٹھے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ انسان مٹی سے نہیں، یادوں سے جڑا ہوتا ہے۔
بالاکوٹ بتاتا ہے کہ کچھ زخم وقت بھی نہیں بھلا سکتا۔ وہ زخم جو اجتماعی قبر میں دفن ہوں، وہ کبھی نہیں بھرتے۔
ریسرچ: جواد













اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں