مانسہرہ : بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب پراجیکٹ انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر متعدد ملازمین کے موٹر سائیکلوں کو ویلڈنگ کر کے بند کر دیا گیا۔ اس اقدام کے بعد ملازمین کی روزمرہ آمد و رفت بری طرح متاثر ہو گئی ہے اور کئی کارکن ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ دور دراز علاقوں سے اپنی ذاتی موٹر سائیکلوں پر ڈیوٹی کے لیے آتے ہیں، تاہم اچانک بغیر کسی تحریری نوٹس یا پیشگی اطلاع کے ان کی موٹر سائیکلوں کو ناقابلِ استعمال بنا دیا گیا، جس کے باعث وہ نہ صرف وقت پر ڈیوٹی پر پہنچنے سے قاصر ہیں بلکہ متبادل سفری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
ملازمین کے مطابق پہلے ہی تنخواہوں میں تاخیر اور دیگر مسائل نے انہیں معاشی مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے، جبکہ اب موٹر سائیکلوں کو ویلڈ کر کے بند کرنا ان کے لیے دوہرے عذاب سے کم نہیں۔ متاثرہ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان کی عزتِ نفس مجروح ہوئی ہے اور انہیں زبردستی دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان کی موٹر سائیکلیں کھول کر دی جائیں، آمد و رفت کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے اور ایسے غیر انسانی اقدامات کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری پراجیکٹ انتظامیہ پر عائد ہو گی۔
دوسری جانب اس حوالے سے بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم خبر فائل ہونے تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آ سکا۔
علاقائی عوامی و سماجی حلقوں نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملازمین کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے تاکہ قومی اہمیت کے اس منصوبے میں کام کرنے والے مزدور سکھ کا سانس لے سکیں۔