مانسہرہ: صوبائی حکومت نے سکول لیڈرز کو مدت ملازمت مکمل ھونے کے بعد ملازمت سے ھٹا دیا .حکومت کے اس فیصلے سے صوبہ بھر سے دس ھزار سے کے قریب سکول لیڈرز فارغ بے روزگاری شرح مزید بڑھنے لگی حکومت نے محکمہ ایجوکیشن میں سکولوں کی چیکنگ کیلۓ ایک سنہری اقدام اٹھا تھا قبل ازیں سرکار ی سکولوں میں تعیلم کی بہتری کیلۓ اسکول لیڈرز تعینات کیے گۓ .
جنہوں سکول کے نظم ونسق کو انتہائی بہتر انداز مانیٹر کیا جدید تقاضوں کے برعکس آپنی قابلیت اور مہارت کی بدولت بہترین ٹپیس دیے جس سے سرکاری سکولوں میں انتہائی بہتری آئی طلبہ طالبات میں خود اعتمادی کی فضاء پیدا ھوگی طالبعلموں کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آنے لگیں.
اسی سکول کے اساتذہ کو ڈیوٹی ٹائم کا پابند بنایا گیا چونکہ درور افتادہ علاقوں میں اساتذہ کی حاضریوں کو سو فیصد یقینی بنایا گیا جہاں پر پوررے سال میں ایک ھفتے کی حاضری ناممکن تھی اور اساتذہ گھر بیٹھے تنخواھیں وصول کرتی تھیں جس سے طلباء طالبات کی صلاحتیں ابھر کر سامنے آنے لگیں.
حکومت نے سکول لیڈرز کو ختم کر کے ایک مرتبہ پھر سے محکمہایجوکیشن کو اندھیروں میں دھکیل دیا جس پر عوامی وسماجی حلقوں نے وزیرآعلیٰ کے پی کے اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ھے سکول لیڈرز کو دوبارہ سے بحا ل کیا جاۓ تاکہ غریب نادار بچوں کو بھی آپنی صلاحتیں دیکھانے کےمواقع میسر آسکیں.