مانسہرہ : شوریٰ ایکشن کمیٹی اپر کوہستان نے داسو ڈیم کے حوالے سے قائم 40 رکنی جے آر سی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم اور چیئرمین واپڈا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک سراج، ملک فقیر شاہ، ملک نور ولی شاہ، مولانا طیب شاہ، مولانا عبدالغنی فاروقی، مولانا فریدون اور ضیاء الحق خان خیلی نے کہا کہ واپڈا نے یہ کمیٹی چاروں تحصیلوں کی مشاورت کے بغیر تشکیل دی ہے، اس لیے یہ کمیٹی قابلِ قبول نہیں۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ داسو ڈیم پر کام شروع ہوئے 12 برس گزر چکے ہیں مگر متاثرہ علاقوں کے عوام کو نہ بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں اور نہ تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے ملک کو روشن کرنے کے لیے اپنی آبائی زمینیں، مساجد اور قبرستان قربان کیے، اس کے باوجود باہر سے افراد کو نوکریاں دی جا رہی ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔
شوریٰ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ صرف کمیٹی کے متفقہ فیصلے ہی متاثرین کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دس روز میں مطالبات پر شنوائی نہ ہوئی یا من پسند کمیٹی کا دوبارہ اجلاس بلایا گیا تو شاہراہ قراقرم بند کر کے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ رہنماؤں نے مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے کے بجائے متاثرین اپر کوہستان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔