چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید (ریٹائرڈ) کا منصوبے کی مختلف سائٹس کا دورہ، حکام سے تفصیلی بریفنگ
20 جنوری 2026 — چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید (ریٹائرڈ) نے زیرِ تعمیر تربیلا پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے کا دورہ کیا اور مختلف اہم مقامات پر جاری کام کا جائزہ لیا۔ یہ منصوبہ تربیلا ڈیم کی سرنگ نمبر 5 پر عالمی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مالی معاونت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر ممبر (واٹر) سید علی اختر شاہ، ممبر (پاور) محمد عرفان میانہ، جنرل منیجر و پراجیکٹ ڈائریکٹر تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ، جنرل منیجر تربیلا ڈیم، جنرل منیجر (پاور) تربیلا، ایڈوائزر (پراجیکٹس) اور تربیلا کے چوتھے و پانچویں توسیعی منصوبوں کے مشیران بھی موجود تھے۔
چیئرمین واپڈا کو ان ٹیک اسٹرکچر، کنیکٹنگ ٹنل، پاور ہاؤس، سوئچ یارڈ اور ٹرانسمیشن لائن پر جاری پیش رفت، درپیش چیلنجز اور آئندہ اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے آگاہ کیا کہ منصوبے پر مجموعی طور پر 56 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ سول اور الیکٹرو مکینیکل کام کی تکمیل کے بعد پہلے یونٹ سے بجلی کی پیداوار اپریل 2027 میں شروع کیے جانے کا ہدف ہے۔
جائزے کے دوران چیئرمین واپڈا نے کنیکٹنگ ٹنل اور پاور ہاؤس پر تعمیراتی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ کنسلٹنٹس، کنٹریکٹرز اور واپڈا کی پراجیکٹ ٹیم باہمی تعاون سے مقررہ اہداف حاصل کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعمیراتی معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
تربیلا پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,530 میگاواٹ ہے، جس کے تین یونٹس ہیں اور ہر یونٹ 510 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ منصوبے کے لیے عالمی بینک کی جانب سے 390 ملین ڈالر جبکہ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے 300 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد نیشنل گرڈ کو سالانہ تقریباً ایک ارب 46 کروڑ 60 لاکھ یونٹس کم لاگت اور ماحول دوست بجلی میسر آئے گی۔ اس توسیع کے بعد تربیلا ڈیم کی مجموعی پیداواری صلاحیت 4,888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6,418 میگاواٹ ہو جائے گی۔
بعد ازاں چیئرمین واپڈا نے تربیلا چوتھے توسیعی پن بجلی منصوبے کا بھی دورہ کیا۔ اس منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,410 میگاواٹ ہے۔ دورے کے دوران انہوں نے لو لیول آؤٹ لیٹس اور پاور ہاؤس کا معائنہ کیا۔ حکام نے بتایا کہ 2018 میں تکمیل کے بعد سے اب تک یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کو 33 ارب یونٹس سے زائد بجلی فراہم کر چکا ہے۔



