چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید (ریٹائرڈ) نے تربیلا ڈیم کا دورہ کرتے ہوئے پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے پر جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا جبکہ چوتھے توسیعی منصوبے کی لو لیول آؤٹ لٹ (LLO) کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کا بھی مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین ارسا امجد سعید، ارسا تکنیکی کمیٹی کے ارکان، ممبر واٹر واپڈا اور ممبر پاور واپڈا بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔



چیئرمین واپڈا کو پانچویں توسیعی منصوبے کی مختلف اہم سائٹس بشمول ان ٹیک اسٹرکچر، کنیکٹنگ ٹنل، پاور ہاؤس، ٹیل ریس اور سوئچ یارڈ پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ تمام اہم اہداف بروقت مکمل کرنے کیلئے بھرپور اقدامات جاری ہیں۔ چیئرمین واپڈا نے منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ منصوبہ مزید تاخیر کے بغیر جلد مکمل کیا جائے۔
1,530 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ ورلڈ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کیلئے ورلڈ بینک 390 ملین ڈالر جبکہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک 300 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد تربیلا ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 4,888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6,418 میگاواٹ ہو جائے گی۔
چیئرمین واپڈا نے تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے کی لو لیول آؤٹ لٹ کی ٹیسٹ کمیشننگ کا بھی جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق خریف سیزن میں ارسا انڈنٹ کے مطابق صوبوں کو پانی کی فراہمی کیلئے اس نظام کی کمیشننگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مارچ 2018 میں مکمل ہونے والے اس منصوبے سے اب تک نیشنل گرڈ کو 33 ارب 25 کروڑ یونٹ بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔
واپڈا حکام کے مطابق تربیلا ڈیم گزشتہ 50 برسوں میں چاروں صوبوں کو زرعی مقاصد کیلئے 419 ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کر چکا ہے جبکہ نیشنل گرڈ کو 586 ارب یونٹ سستی اور ماحول دوست پن بجلی بھی مہیا کی گئی۔ حکام نے مزید بتایا کہ تربیلا ڈیم نے 1974 سے اب تک پاکستان کی معیشت کو تقریباً 460 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچایا ہے۔
دورے کے موقع پر جنرل منیجر تربیلا ڈیم، جنرل منیجر پاور تربیلا، پراجیکٹ ڈائریکٹرز، ایڈوائزرز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
⚡ چیئرمین واپڈا کا تربیلا ڈیم کا دورہ، توسیعی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ ⚡
20