🦌 ننگر پارکر میں نایاب چنکارا ہرنوں کا شکار، وائلڈ لائف اہلکاروں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر ملزمان فرار.

24

تھرپارکر (مانسہرہ ڈاٹ کام)
تھرپارکر کے علاقے ننگر پارکر میں نایاب اور محفوظ جنگلی حیات میں شمار ہونے والے چنکارا ہرنوں کے غیرقانونی شکار کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ نے مقدمہ درج کرکے تین افراد کو نامزد کر دیا ہے۔
وائلڈ لائف حکام کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پیش آیا، جہاں ملزمان نے مبینہ طور پر دو چنکارا ہرنوں کا شکار کیا جبکہ تین دیگر ہرنوں کو زندہ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔
مدعی مقدمہ کے مطابق اطلاع ملنے پر وائلڈ لائف کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی، تاہم ملزمان نے اہلکاروں کو اسلحے کے زور پر دھمکایا، مزاحمت کی اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ چنکارا ہرن پاکستان کی نایاب جنگلی حیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا غیرقانونی شکار وائلڈ لائف قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ واقعے کے بعد نامزد ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور اگر کسی علاقے میں غیرقانونی شکار یا جنگلی جانوروں کی اسمگلنگ سے متعلق معلومات ہوں تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ قیمتی جنگلی حیات کو محفوظ بنایا جا سکے۔
🌿 چنکارا ہرن صحرائی علاقوں کا ایک خوبصورت اور نایاب جانور ہے، جو ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیرقانونی شکار اور قدرتی مسکن کی تباہی کے باعث اس کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جس کے باعث اس کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں