کوہستان: ڈی ایچ کیو اسپتال داسو میں ایک حاملہ خاتون کو مبینہ طور پر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث نومولود کی ہلاکت کا افسوسناک واقعہ پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ خاتون کی حالت بھی تشویشناک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق حاملہ خاتون کو طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال داسو لایا گیا، جہاں اہل خانہ کا الزام ہے کہ مریضہ کو مبینہ طور پر کئی گھنٹوں تک بروقت طبی معائنہ اور ضروری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔
اہل خانہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعلقہ خاتون ڈاکٹر مبینہ طور پر اپنے کمرے سے ایمرجنسی یا او پی ڈی میں آکر مریضہ کا معائنہ کرنے کے لیے بروقت نہیں پہنچیں، جس کے باعث مریضہ کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی اور مبینہ طور پر بچہ ضائع ہوگیا۔
اہل خانہ اور مقامی افراد نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت طبی معائنہ اور علاج فراہم نہ کرنے کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون اور محکمانہ ضوابط کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ڈی ایچ کیو اسپتال داسو میں انتظامی امور کے حوالے سے بھی مسائل موجود ہیں اور اسپتال میں مستقل ایم ایس یا دیگر ذمہ دار انتظامی افسر کی عدم موجودگی سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کوہستان کے عوام کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال داسو ایک اہم طبی مرکز ہے، اس لیے وہاں ایمرجنسی، زچہ و بچہ اور دیگر حساس طبی خدمات کی دستیابی اور بروقت فراہمی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔
متاثرہ خاندان اور مقامی افراد نے متعلقہ محکمہ صحت اور اسپتال انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مریضہ کے علاج اور بچے کی ہلاکت سے متعلق تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی ڈاکٹر یا انتظامی اہلکار کی غفلت ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب متعلقہ اسپتال انتظامیہ، خاتون ڈاکٹر اور این جی او/انتظامی ادارے ندا کا مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید وضاحت ہوسکے گی۔
کوہستان: ڈی ایچ کیو داسو اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود کی ہلاکت پر تحقیقات کا مطالبہ.
36