ریاض – گزشتہ روز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں پر کیے گئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد ترکی اور پاکستان کی ممکنہ فوجی مداخلت کے حوالے سے افواہوں کا بازار گرم ہے۔
حوثی باغیوں نے جازان میں ارامکو کی ریفائنری، کنگ خالد ایئر بیس اور خمیس مشیط شہر کو نشانہ بنایا۔ ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق جازان ریفائنری کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو پہلے ہی گزشتہ حملوں میں تباہ ہو چکی تھی اور اس ستمبر میں بحال ہونی تھی ۔
یہ معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک نے اعلان کیا کہ “کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا” ۔
یہ معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر بنایا گیا ہے، تاہم اس میں نیٹو کی طرح مربوط کمانڈ، مشترکہ منصوبہ بندی یا اجتماعی جوابی کارروائی کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں ۔ ماہرین کے مطابق، اس معاہدے کے عملی فوجی پہلوؤں کو ابھی تک عوامی طور پر متعین نہیں کیا گیا ۔
مختلف ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے حملے کے جواب میں فوجی کارروائی کی ہے، جس میں فائٹر جیٹس اور گن شپ ہیلی کاپٹرز نے حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ۔ تاہم اس بارے میں کوئی تصدیق شدہ اطلاع نہیں ہے کہ اس کارروائی میں ترکی اور پاکستان کی فضائیہ نے براہِ راست حصہ لیا۔
ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ “سعودی طیاروں، پاکستانی F-16s اور ترکی کے F-16s کا مشرقِ وسطیٰ میں مشترکہ حملے کرنا ہالی وڈ کی فکشن ہے” ۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک مشاورت کریں گے کہ کس قسم کی مدد فراہم کی جائے — یہ طے نہیں کہ خودکار فوجی کارروائی ہوگی ۔
سعودی حکام نے حملے میں 73 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ تاہم ترکی اور پاکستان کی طرف سے اس حملے پر کوئی فوجی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی انہوں نے اپنی طرف سے کسی مشترکہ کارروائی کی تردید یا تائید کی ہے ۔



یاد رہے کہ پاکستان اور ترکی کے فوجی دستے پہلے سے سعودی عرب کی مختلف ایئر بیسز پر تعینات ہیں ۔
سعودی تنصیبات پر حملے کے بعد ترکی اور پاکستان کا کردار: “مکہ معاہدہ” پہلی آزمائش میں.
30