بحیرۂ احمر میں اہم پیش رفت، حوثیوں کا اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ.

33

یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرۂ احمر میں واقع اہم اور اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حوثیوں کے اس دعوے کے بعد باب المندب پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انصار اللہ نے اس سے ایک روز قبل بھی آبنائے باب المندب پر اپنی گرفت مضبوط ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
انصار اللہ کی جانب سے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک پر قبضے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کو تقریباً 5,400 مربع کلومیٹر کے علاقے سے پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انصار اللہ کا مزید کہنا ہے کہ قبضے میں لیے گئے علاقوں سے بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان بھی تحویل میں لیا گیا ہے، جس کی مالیت لاکھوں ڈالر بتائی گئی ہے۔
جزیرہ میون آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہونے کے باعث تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ باب المندب عالمی بحری تجارت کے اہم راستوں میں شامل ہے، اس لیے یہاں کسی بھی فریق کی فوجی موجودگی میں تبدیلی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اہم پیش رفت تصور کی جاتی ہے۔

تاہم جزیرے پر قبضے اور دیگر فوجی کامیابیوں سے متعلق یہ دعوے انصار اللہ اور عرب میڈیا کی رپورٹس پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں