ایران طویل عرصے سے خطے میں اپنی سلامتی، خودمختاری اور مفادات کے تحفظ کے لیے سخت مؤقف اختیار کرتا آیا ہے۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں معمولی غلط فہمی بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
ایران کے حوالے سے بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ تہران نے کئی مواقع پر جنگی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے بجائے سخت گیر پالیسی کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی گئی۔ پاکستان سمیت بعض ممالک نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں بھی کیں، تاہم خطے میں اعتماد کا فقدان بدستور موجود رہا۔
موجودہ بحران میں آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر مرکزی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات صرف ایران یا امریکہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران تجارتی جہاز رانی، بحری سلامتی اور آبنائے ہرمز سے متعلق بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف ایران اپنے علاقائی مفادات اور سلامتی کے تحفظ پر زور دیتا ہے تو دوسری جانب امریکہ اپنے اتحادیوں اور عالمی بحری راستوں کے تحفظ کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
اس کشیدگی کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ جنگ کا دائرہ صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہتا۔ توانائی کے مراکز، ایندھن کے ذخائر، پانی اور دیگر بنیادی شہری سہولیات سے متعلق تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں براہِ راست عام آبادی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک بھی اس بحران سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتے۔ خطے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں سعودی عرب، قطر، بحرین اور دیگر ممالک کی سلامتی، معیشت اور توانائی کی تنصیبات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستوں کے لیے بھی توازن برقرار رکھنا ایک بڑا سفارتی چیلنج ہے۔
ایران کے بعض اقدامات پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تہران خطے میں موجود امریکی یا دیگر مخالف اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کی حکمت عملی اور ترجیحات کیا ہیں۔ تاہم ایسے معاملات میں کسی ایک واقعے یا دعوے سے حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں، کیونکہ جنگی حالات میں اطلاعات، دعوے اور جوابی دعوے مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
اس پورے بحران میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ اور کشیدگی کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی سے سب سے زیادہ فائدہ ان قوتوں کو پہنچ سکتا ہے جو خطے میں اپنے تزویراتی، دفاعی اور معاشی مفادات کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔ بالخصوص اسرائیل اور اس کے مخالفین کے درمیان جاری کشمکش نے خطے کو ایک ایسے مسلسل بحران میں دھکیل دیا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
جنگ کسی مسئلے کا آسان حل نہیں۔ ایک جنگ ختم ہونے کے بعد دوسری جنگ شروع ہو جائے تو معاشی نقصان، انسانی مشکلات اور علاقائی عدم استحکام مزید بڑھتا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی مفاہمت کے راستے تلاش کریں۔
ایران کے لیے بھی یہ لمحہ غور و فکر کا ہے، جبکہ امریکہ، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسلسل فوجی کشیدگی کسی ایک فریق کو مستقل سلامتی فراہم نہیں کر سکتی۔
آخرکار جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام انسان کا ہوتا ہے۔
اختلاف اپنی جگہ، قومی مفادات اپنی جگہ، لیکن خطے کو ایک ایسی مستقل جنگ کی طرف دھکیلنا جس کا اختتام کسی کو معلوم نہ ہو، پوری دنیا کے لیے خطرناک ہے۔
اپنی عزت، اپنے مفادات اور اپنے مستقبل کا تحفظ ضروری ہے، لیکن اختلاف اور تنازع کو تہذیب، سفارت کاری اور عقل کے دائرے میں رکھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
ایران، جنگ اور بدلتی ہوئی خطے کی صورتحال.
23