مانسہرہ: ٹول پلازہ پر چھوٹی گاڑیوں کے لیے یک طرفہ ٹول فیس 100 روپے کیے جانے کے بعد مقامی شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مانسہرہ سے ایبٹ آباد علاج، ملازمت، تعلیم، کاروبار، عدالت یا دیگر ضروری کاموں کے لیے جانے والے افراد کو واپسی پر 200 روپے صرف ٹول کی مد میں ادا کرنا پڑتے ہیں۔
شہریوں کے مطابق ایسے خاندان جنہیں کسی مریض کے علاج یا ہنگامی صورتحال کے باعث ایک ہی دن میں ایوب میڈیکل کمپلیکس یا دیگر طبی مراکز کے متعدد چکر لگانا پڑیں، ان کے لیے یہ اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ متوسط اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے بار بار ٹول ادا کرنا ایک اضافی مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ مانسہرہ، قلندرآباد اور ایبٹ آباد سے ملحقہ علاقوں کے شہری اپنی روزمرہ ضروریات کے سلسلے میں اس شاہراہ پر مسلسل سفر کرتے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی آبادی کے لیے یا تو ٹول فری سہولت فراہم کی جائے یا پھر ایک مؤثر اور باعزت لوکل پاس یا رعایتی ٹول سسٹم متعارف کرایا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف ٹول فیس تک محدود نہیں بلکہ سڑک کی صورتحال بھی توجہ طلب ہے۔ مختلف مقامات پر سڑک کے مسائل، محدود راستہ اور پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب سہولیات کی کمی کے باعث روزمرہ سفر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر شہریوں سے مسلسل اضافی مالی بوجھ وصول کیا جا رہا ہے تو اس کے مقابلے میں محفوظ، بہتر اور معیاری سفری سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
عوامی حلقوں نے منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی آبادی کے مسائل کو سنجیدگی سے دیکھا جائے اور ٹول فیس کے حوالے سے ایسا نظام وضع کیا جائے جس سے روزانہ سفر کرنے والے مقامی شہریوں کو غیرضروری مالی بوجھ سے ریلیف مل سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ عوامی سہولت اور بنیادی شہری حقوق کے لیے ایک پُرامن اور قانونی جدوجہد ہے۔

مانسہرہ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ مقامی آبادی کے لیے ٹول فری سہولت یا خصوصی رعایتی لوکل پاس کا نظام متعارف کرایا جائے۔
مانسہرہ میں ٹول ٹیکس میں اضافے پر عوامی تشویش، مقامی آبادی کے لیے رعایتی سہولت کا مطالبہ.
34