ایبٹ آباد میں ایک نجی سکول کے اندر نویں جماعت کے ایک طالب علم کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کا واقعہ پیش آیا، جس کے باعث سکول میں شدید بھگڈر مچ گئی۔ اطلاع ملنے پر ایبٹ آباد پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور فائرنگ کرنے والے طالب علم کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا۔
تھانہ سکندر آباد کے ایس ایچ او محمد دلاور کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً ساڑھے دس سے پونے گیارہ بجے کے درمیان پیش آیا۔ پولیس کو ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ یہ واقعہ دو طالب علموں کے درمیان ہونے والے تنازعے کا نتیجہ تھا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم طالب علم اپنے ماموں کی لائسنس یافتہ کلاشنکوف رائفل سکول بیگ میں چھپا کر لایا تھا، جس سے اس نے دو فائر کیے۔ خوش قسمتی سے دونوں فائر زمین پر لگے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا مقصد اپنے ساتھی طالب علم کو ڈرانا تھا۔
پولیس نے رائفل قبضے میں لے کر اس کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ سکول انتظامیہ نے پولیس کو بتایا کہ سکول گارڈز کی غفلت کے باعث طالب علم اسلحہ بیگ میں چھپا کر سکول کے اندر لانے میں کامیاب ہوا۔
ڈی ایس پی کینٹ طاہر سلیم کا کہنا ہے کہ اس بات کی مکمل تفتیش کی جائے گی کہ اسلحہ سکول کے اندر کیسے پہنچا اور سکیورٹی میں کہاں کوتاہی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ حکام کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور سکول انتظامیہ سے سکیورٹی امور پر بات چیت جاری ہے۔
پولیس کے مطابق تنازعے کی وجہ سوشل میڈیا پر کی جانے والی ایک انسٹاگرام پوسٹ بنی، جس پر دونوں طالب علموں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ متاثرہ طالب علم کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ طالب علم نے بیان دیا کہ ونٹر کیمپ کے دوران تقریباً گیارہ بجے کے قریب وہ واپس جا رہا تھا کہ ملزم ہاتھ میں کلاشنکوف لے کر آیا اور سیڑھیوں پر دو فائر کیے۔ فائرنگ کی آواز سن کر ایک اور کلاس فیلو موقع پر پہنچا اور ملزم سے اسلحہ چھین لیا۔
واضح رہے کہ ایبٹ آباد میں شدید سردی کے باعث ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ونٹر کیمپس پر پابندی عائد ہے۔ ڈی ایس پی طاہر سلیم کے مطابق اس پہلو کی بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ پابندی کے باوجود سکول میں کیمپ کس طرح جاری تھا۔
انسٹاگرام پوسٹ پر تنازع: ایبٹ آباد میں طالب علم کی ساتھی کو ڈرانے کے لیے سکول میں فائرنگ
14