پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں میں نگرانی کے نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے “اسکول لیڈر ایپ” (School Leader App) متعارف کرا دی ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق یہ ایپ 16 مارچ 2026 سے صوبے کے مختلف اضلاع میں ایک ماہ کے پائلٹ منصوبے کے طور پر شروع کی جا رہی ہے، جس کے بعد اس کے نتائج کا جائزہ لے کر اسے پورے صوبے میں باقاعدہ طور پر نافذ کیا جائے گا۔
محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق اس ایپ کا مقصد اسکولوں کی کارکردگی، تدریسی معیار اور انتظامی امور کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ہے۔ اس نظام کے تحت تمام اسکول ہیڈز، پرنسپلز اور مانیٹرنگ افسران کے لیے ایپ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جب بھی کوئی افسر کسی اسکول کا دورہ کرے گا تو اسے وزٹ کی مکمل رپورٹ ایپ میں درج کرنا ہوگی۔
ایپ کے ذریعے جمع کروائی جانے والی رپورٹ میں تصاویر، وقت کا اندراج (Time Stamp)، جی پی ایس لوکیشن، اور اسکول کی موجودہ صورتحال شامل ہوگی تاکہ رپورٹ کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کسی بھی اسکول کی کارکردگی کو مرکزی سطح پر باآسانی مانیٹر کیا جا سکے گا۔
محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ ایپ کے ذریعے اسکولوں میں صفائی ستھرائی، اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، بنیادی سہولیات کی دستیابی، کلاس روم میں تدریسی سرگرمیاں، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور نظم و ضبط کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پی ٹی سی (Parent Teacher Council) کے اجلاس، ای سی ای (Early Childhood Education) اور ایف ایل این (Foundational Literacy and Numeracy) پروگرامز کی مانیٹرنگ بھی اسی پلیٹ فارم کے ذریعے کی جائے گی
حکام کے مطابق اگر کسی اسکول میں غفلت، غیر حاضری، ناقص کارکردگی یا قواعد کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو اس کی تفصیلات بھی لازمی طور پر ایپ میں درج کرنا ہوں گی۔ تمام وزٹ رپورٹس کو انٹرنیٹ دستیاب ہونے کی صورت میں Sync کرنا ضروری ہوگا جبکہ روزانہ کی رپورٹ Export کرکے متعلقہ سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر (SDEO) کو بھی ارسال کی جائے گی۔
محکمہ تعلیم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل سسٹم کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں لاگ بک (Log Book) میں تحریری ریکارڈ برقرار رکھنا بھی لازمی ہوگا۔ اگر کوئی اسکول لیڈر یا افسر جاری کردہ SOPs پر عملدرآمد نہ کرے تو اسے محکمانہ خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اسکولوں کے نگرانی کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر انتظام ممکن ہوگا، جس سے نہ صرف اساتذہ کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ طلبہ کو بھی بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔
پشاور: سرکاری اسکولوں کی مانیٹرنگ کے لیے “اسکول لیڈر ایپ” متعارف، 16 مارچ سے پائلٹ منصوبہ شروع
3