وفاقی وزیر مذہبی امور اور چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ہزارہ کو علیحدہ صوبہ بنانا اب محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات کراچی کے علاقے داؤد چورنگی میں ’صوبہ ہزارہ تحریک‘ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں ہزارہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سردار محمد یوسف نے انکشاف کیا کہ وہ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی بات چیت کر چکے ہیں اور وزیراعظم نے اس معاملے پر جلد اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ صوبہ کا مطالبہ کسی لسانی، نسلی یا تعصبانہ بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی اور عوامی سہولت کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں عوام کو بنیادی سہولیات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر آئینِ پاکستان میں اب تک 27 ترامیم کی جا چکی ہیں تو 28 ویں آئینی ترمیم نئے صوبوں کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبے بنانے سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔
سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ ہزارہ خطہ قدرتی وسائل، پن بجلی کے منصوبوں، معدنیات اور سیاحت کے بے پناہ مواقع سے مالا مال ہے۔ علیحدہ صوبے کی صورت میں نہ صرف یہ خطہ معاشی طور پر خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ وفاق کو بھی خاطر خواہ وسائل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر نے بتایا کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے مکمل فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی جا چکی ہے، جس میں انتظامی ڈھانچے، مالی وسائل، ریونیو ماڈل اور سیاحت کے فروغ سے متعلق جامع حکمت عملی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو ہزارہ کو سیاحت کے عالمی نقشے پر نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے۔
رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شائستہ جدون، سید جنید قاسم، ملک فاروق اعوان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہزارہ کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور یہ تحریک اپنے منطقی انجام یعنی صوبے کے قیام تک جاری رہے گی۔ مقررین نے کراچی میں مقیم ہزارہ وال برادری پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر سیاسی اور جمہوری انداز میں اس مطالبے کے لیے آواز بلند کریں اور سیاسی قیادت پر دباؤ بڑھائیں تاکہ آئینی و قانونی تقاضے جلد از جلد پورے کیے جا سکیں۔
ہزارہ کو صوبہ بنانے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا، وزیراعظم سے جلد اجلاس کی یقین دہانی.
4