مورخہ 14 فروری کی شب اپر کوہستان کے علاقے داسو کے مقام زیرو پوائنٹ کے قریب ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک گاڑی دریائے سندھ میں جاگری۔ گاڑی میں دو افراد سوار تھے۔ حادثے کے فوری بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے ایک مسافر کو بحفاظت نکال لیا، تاہم دوسرا مسافر گاڑی سمیت دریا میں لاپتہ ہوگیا۔

رات کے اندھیرے اور دریا میں پانی کے تیز بہاؤ کے باعث فوری طور پر مکمل سرچ آپریشن ممکن نہ ہوسکا، جس کے بعد اگلی صبح دوبارہ باقاعدہ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو آپریشن کی نگرانی اور شرکت
یہ آپریشن ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فائنانس اینڈ پالیسی) محمد اظہر خان کی زیر نگرانی جاری ہے۔ ان کے ہمراہ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر جنرل خیب گل، تحصیلدار داسو نورالوحاج، اور متعلقہ ریونیو عملہ بھی موقع پر موجود رہا۔
ریسکیو 1122 اپر کوہستان کے ساتھ ساتھ شانگلہ اور سوات کی ٹیموں نے بھی سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔ مزید برآں، کاگا اور میرہ شانگلہ کے نجی غوطہ خوروں کو بھی طلب کیا گیا تاکہ دریا کے گہرے حصوں میں تلاش کا عمل تیز کیا جا سکے۔
چینی تعمیراتی کمپنی Gezhouba Group of Companies (CGGC) سے بھی مشینری کی فراہمی کے لیے رابطہ کیا گیا۔ کمپنی کے انجینئر نے موقع کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ دی کہ دستیاب بھاری مشینری اس مقام کی دشوار گزار اور پتھریلی زمین کے لیے موزوں نہیں ہے۔
گاڑی برآمد، لاپتہ شخص کی تلاش جاری
دو روز کی مسلسل اور سخت محنت کے بعد ریسکیو ٹیموں نے گاڑی کو دریائے سندھ سے نکال لیا۔ گاڑی کا اگلا دروازہ کھلا پایا گیا، تاہم لاپتہ مسافر گاڑی کے اندر موجود نہیں تھا، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا ہو سکتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ لاپتہ شخص کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری رکھا جائے گا اور ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انتظامیہ کا اظہارِ ہمدردی
ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان نے ڈی پی او اور دیگر ضلعی افسران کے ہمراہ متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور افسوسناک واقعہ پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ انتظامیہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور لاپتہ فرد کی تلاش تک آپریشن جاری رہے گا۔
داسو زیرو پوائنٹ حادثہ: دریائے سندھ میں گاڑی گرنے کا واقعہ، سرچ آپریشن جاری.
9