سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی: ایبٹ آباد میں پچاس فیصد سے زائد قصابوں کی دکانیں بند، درجنوں گرفتار.

5

ایبٹ آباد میں آج پچاس فیصد سے زائد قصابوں کی دکانیں بند رہیں۔ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب متعدد قصاب سرکاری ریٹ لسٹ سے زائد نرخوں پر گوشت فروخت کرتے پائے گئے۔ ضلعی انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے درجنوں دکانداروں کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس کے باعث بیشتر دکانیں ازخود بند کر دی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شام شہر کے مختلف تھانوں کی حوالاتیں اشیائے ضروریہ مہنگے داموں فروخت کرنے والوں سے بھر گئی تھیں۔ گرفتار افراد میں بڑی تعداد غیر مقامی نوجوانوں کی بتائی جا رہی ہے، جو مبینہ طور پر ناجائز منافع خوری میں ملوث تھے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے من مانی قیمتیں وصول کرنے پر شہری حلقوں نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سرکاری نرخنامے پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر سرمد سلیم اکرم کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فیلڈ میں متحرک ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر بازاروں کا معائنہ کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد کی تاریخ میں پہلی بار اتنا سخت چیک اینڈ بیلنس دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی انتظامی افسران تعینات رہے، تاہم موجودہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کریک ڈاؤن کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کچھ تاجروں کا مؤقف ہے کہ سختیوں کے باوجود سپلائی چین اور ہول سیل سطح پر نرخوں کے مسائل حل کیے بغیر مکمل استحکام ممکن نہیں۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی، تاکہ رمضان المبارک میں شہریوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ممکنہ وجوہات اور اثرات:
سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد میں عدم دلچسپی
سپلائی اور طلب میں عدم توازن
ہول سیل سطح پر قیمتوں میں اضافہ
سخت کریک ڈاؤن کے باعث وقتی طور پر مارکیٹ میں گوشت کی قلت
شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ مستقل بنیادوں پر نگرانی کا نظام قائم کرے تاکہ مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں