بریکنگ نیوز
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا سخت بیان: "ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش ہو رہی ہے"
08-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
34 وزٹ
Read in English
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا سخت بیان: "ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش ہو رہی ہے"
پشاور – وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی پر سخت تنقید کی ہے۔
بلاول کے والد پر الزام
سہیل آفریدی کا کہنا تھا:
"بلاول کے والد ایک اور مشرقی پاکستان کرنا چاہ رہے ہیں۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ذاتی مفادات کے لیے بنگلادیش کو پاکستان سے جدا کیا۔ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وطیرہ رہا ہے۔"
گورنر کے پی کے اجلاس پر برہمی
وزیراعلیٰ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے گزشتہ روز کے اقدام کو "ڈرامہ" قرار دیتے ہوئے کہا:
"فیصل کریم کنڈی چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ ان کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔"
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے جو مکمل طور پر فعال اور برقرار ہے۔
آئینی حیثیت پر رائے لی جائے گی
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ گزشتہ روز کے اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا:
"کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔"
فیصل کریم کنڈی پر الزام
وزیراعلیٰ کے مطابق:
"فیصل کریم کنڈی کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد اشتعال دلانا اور ردعمل پر مجبور کرنا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دوبارہ دہشت گردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں۔
وفاق پر سخت تنقید
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا:
"وفاقی حکومت کا ہمیشہ کے پی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔"
انہوں نے بتایا:
· 2018 میں قبائلی اضلاع صوبے میں ضم کیے گئے لیکن ان کا آج تک مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا
· متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں
· قبائلی خاندانوں کے لیے فی گھر صرف 4 لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا، جبکہ "اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بیگمات کے پرس کروڑوں روپے کے ہوتے ہیں"
وفاق سے مطالبات
وزیراعلیٰ نے وفاق سے مطالبہ کیا:
· صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کیا جائے
· 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے تقریباً سوا ارب کے واجبات ادا کیے جائیں
انہوں نے کہا:
"دہشت گردی کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور وفاق کی غلط پالیسیوں سے پیدا حالات کا بھی سامنا کرنا ہے۔"
دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر سوال
سہیل آفریدی کا کہنا تھا:
"22 سال میں 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن نہ آنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے۔"
انہوں نے کہا:
· کے پی 100 دن میں امن قائم کر کے دکھا سکتا ہے
· بلوچستان میں بھی یہی پالیسی ناکام ہو رہی ہے
· وفاق کی موجودہ پالیسی نہ خیبرپختونخوا میں مؤثر ہے نہ بلوچستان میں
· پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے
آئی جی اور چیف سیکرٹری کے لیے ہدایت
وزیراعلیٰ نے کہا:
"ہم پرامن رہیں گے اور صرف آئین و قانون کی بات کریں گے۔ عمران خان نے غیر آئینی و غیر قانونی کام نہ کرنے کی تربیت دی ہے۔"
انہوں نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ہدایت کی:
"کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔"
پولیس کی قربانیوں کا ذکر
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
پشاور – وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی پر سخت تنقید کی ہے۔
بلاول کے والد پر الزام
سہیل آفریدی کا کہنا تھا:
"بلاول کے والد ایک اور مشرقی پاکستان کرنا چاہ رہے ہیں۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ذاتی مفادات کے لیے بنگلادیش کو پاکستان سے جدا کیا۔ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وطیرہ رہا ہے۔"
گورنر کے پی کے اجلاس پر برہمی
وزیراعلیٰ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے گزشتہ روز کے اقدام کو "ڈرامہ" قرار دیتے ہوئے کہا:
"فیصل کریم کنڈی چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ ان کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔"
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے جو مکمل طور پر فعال اور برقرار ہے۔
آئینی حیثیت پر رائے لی جائے گی
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ گزشتہ روز کے اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا:
"کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔"
فیصل کریم کنڈی پر الزام
وزیراعلیٰ کے مطابق:
"فیصل کریم کنڈی کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد اشتعال دلانا اور ردعمل پر مجبور کرنا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دوبارہ دہشت گردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں۔
وفاق پر سخت تنقید
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا:
"وفاقی حکومت کا ہمیشہ کے پی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔"
انہوں نے بتایا:
· 2018 میں قبائلی اضلاع صوبے میں ضم کیے گئے لیکن ان کا آج تک مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا
· متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں
· قبائلی خاندانوں کے لیے فی گھر صرف 4 لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا، جبکہ "اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بیگمات کے پرس کروڑوں روپے کے ہوتے ہیں"
وفاق سے مطالبات
وزیراعلیٰ نے وفاق سے مطالبہ کیا:
· صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کیا جائے
· 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے تقریباً سوا ارب کے واجبات ادا کیے جائیں
انہوں نے کہا:
"دہشت گردی کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور وفاق کی غلط پالیسیوں سے پیدا حالات کا بھی سامنا کرنا ہے۔"
دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر سوال
سہیل آفریدی کا کہنا تھا:
"22 سال میں 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن نہ آنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے۔"
انہوں نے کہا:
· کے پی 100 دن میں امن قائم کر کے دکھا سکتا ہے
· بلوچستان میں بھی یہی پالیسی ناکام ہو رہی ہے
· وفاق کی موجودہ پالیسی نہ خیبرپختونخوا میں مؤثر ہے نہ بلوچستان میں
· پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے
آئی جی اور چیف سیکرٹری کے لیے ہدایت
وزیراعلیٰ نے کہا:
"ہم پرامن رہیں گے اور صرف آئین و قانون کی بات کریں گے۔ عمران خان نے غیر آئینی و غیر قانونی کام نہ کرنے کی تربیت دی ہے۔"
انہوں نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ہدایت کی:
"کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔"
پولیس کی قربانیوں کا ذکر
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں