پاکستان
پاکستان میں 92 معدنیات کی نشاندہی، ذخائر کی تخمینی مالیت 8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی
16-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
34 وزٹ
Read in English
اسلام آباد، 16 اکتوبر 2026: پاکستان میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر کی موجودگی نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) سے منسوب رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اب تک 92 مختلف معدنیات کی نشاندہی کی جاچکی ہے، جن میں سے 52 معدنیات تجارتی بنیادوں پر نکالی جارہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معدنی ذخائر کی تخمینی مجموعی مالیت تقریباً 8 ٹریلین ڈالر ہے۔ تاہم قدرتی وسائل کی اس وسیع صلاحیت کے باوجود ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں معدنی شعبے کا حصہ اب بھی 3 فیصد سے کم بتایا جاتا ہے۔
معدنی برآمدات 8 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کا امکان
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی موجودہ معدنی برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔ مؤثر پالیسی سازی، سرمایہ کاری میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور معدنی وسائل کی بہتر تلاش و ترقی کے ذریعے ان برآمدات کو بڑھا کر 8 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے۔
معدنی شعبے کی ترقی سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کے حصول اور معیشت کے لیے روزگار سمیت نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔
ریکوڈک منصوبہ اہم سنگِ میل
رپورٹ میں بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کو پاکستان کے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاری منصوبوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو ملکی معدنی وسائل کی ترقی اور عالمی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے حوالے سے اہمیت حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے سے پیداوار 2028 کے اختتام تک شروع ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے سے سالانہ تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار ٹن تانبا اور 2 لاکھ 97 ہزار اونس سونا پیدا ہونے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔
ریکوڈک منصوبے کی پیش رفت پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری اور قدرتی وسائل سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے۔
اہم معدنیات کی ترقی کے لیے امریکی کمپنی سے معاہدے
رپورٹ میں پاکستان اور امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (US Strategic Metals) کے درمیان اہم معدنیات کی ترقی سے متعلق معاہدوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ان معاہدوں کو معدنی شعبے میں بین الاقوامی تعاون، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026
پاکستان اپنے معدنی وسائل اور سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کے ذریعے بھی کوششیں کررہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، مؤثر پالیسیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے معدنی وسائل کو ملکی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھنے سے برآمدات میں اضافے، درآمدی دباؤ میں کمی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔
اہم وضاحت: 8 ٹریلین ڈالر کی رقم معدنی ذخائر کی تخمینی مالیت ہے؛ اسے فوری طور پر حاصل ہونے والی آمدن یا مکمل طور پر قابلِ استخراج دولت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اشاعت سے قبل اعدادوشمار اور منصوبے کی پیداواری توقعات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معدنی ذخائر کی تخمینی مجموعی مالیت تقریباً 8 ٹریلین ڈالر ہے۔ تاہم قدرتی وسائل کی اس وسیع صلاحیت کے باوجود ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں معدنی شعبے کا حصہ اب بھی 3 فیصد سے کم بتایا جاتا ہے۔
معدنی برآمدات 8 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کا امکان
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی موجودہ معدنی برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔ مؤثر پالیسی سازی، سرمایہ کاری میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور معدنی وسائل کی بہتر تلاش و ترقی کے ذریعے ان برآمدات کو بڑھا کر 8 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے۔
معدنی شعبے کی ترقی سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کے حصول اور معیشت کے لیے روزگار سمیت نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔
ریکوڈک منصوبہ اہم سنگِ میل
رپورٹ میں بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کو پاکستان کے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاری منصوبوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو ملکی معدنی وسائل کی ترقی اور عالمی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے حوالے سے اہمیت حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے سے پیداوار 2028 کے اختتام تک شروع ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے سے سالانہ تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار ٹن تانبا اور 2 لاکھ 97 ہزار اونس سونا پیدا ہونے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔
ریکوڈک منصوبے کی پیش رفت پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری اور قدرتی وسائل سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے۔
اہم معدنیات کی ترقی کے لیے امریکی کمپنی سے معاہدے
رپورٹ میں پاکستان اور امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (US Strategic Metals) کے درمیان اہم معدنیات کی ترقی سے متعلق معاہدوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ان معاہدوں کو معدنی شعبے میں بین الاقوامی تعاون، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026
پاکستان اپنے معدنی وسائل اور سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کے ذریعے بھی کوششیں کررہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، مؤثر پالیسیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے معدنی وسائل کو ملکی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھنے سے برآمدات میں اضافے، درآمدی دباؤ میں کمی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔
اہم وضاحت: 8 ٹریلین ڈالر کی رقم معدنی ذخائر کی تخمینی مالیت ہے؛ اسے فوری طور پر حاصل ہونے والی آمدن یا مکمل طور پر قابلِ استخراج دولت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اشاعت سے قبل اعدادوشمار اور منصوبے کی پیداواری توقعات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں