پاکستان
خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں معدنیات کے شعبے میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آگئیں
21-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
31 وزٹ
Read in English
غیر قانونی کان کنی، ٹھیکے داروں سے واجبات کی عدم وصولی اور سرکاری زمین کم نرخوں پر دینے کے انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف انکوائری کی سفارش
پشاور: خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت کے دوران محکمہ معدنیات میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ قدرت روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں مالی سال 2022 اور 2023 کے دوران مختلف معاملات میں ایک سال کے دوران 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔
غیر قانونی کان کنی سے اربوں روپے کا نقصان
رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی کے ذریعے سرکاری خزانے کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ نادہندہ ٹھیکے داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات وصول نہیں کیے گئے۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ محکمہ معدنیات کی چیک پوسٹوں، انسپکٹرز اور متعلقہ عملے کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی کان کنی جاری رہی، جس کے نتیجے میں مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے کے نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بجری، ریت اور معدنیات کے واجبات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی
رپورٹ کے مطابق شاہراہوں اور اسمال ڈیمز کی تعمیر کے نام پر بجری اور ریت کے غیر قانونی اخراج سے 3 ارب 7 کروڑ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی۔
آڈٹ میں معدنیات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 54 کروڑ 72 لاکھ روپے کی عدم وصولی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مزید برآں کوئلہ، باکسائٹ، لائم اسٹون اور سوپ اسٹون کی کانوں سے متعلق 81 کروڑ روپے سے زائد کے بقایاجات معاف کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سرکاری زمین انتہائی کم نرخوں پر دینے کا انکشاف
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پشاور میں محکمہ معدنیات کی سرکاری زمین مقررہ 10 ہزار روپے فی ایکڑ کے بجائے مبینہ طور پر صرف 200 روپے فی ایکڑ پر فراہم کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو 14 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔
رپورٹ میں کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، ہری پور اور دیگر اضلاع میں اسمال ڈیمز سے متعلق واجبات وصول نہ کیے جانے کے باعث 53 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کی نشاندہی بھی کی گئی۔ اسی طرح مردان میں رائلٹی کی مد میں 6 کروڑ 36 لاکھ روپے کی عدم وصولی کا ذکر کیا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی انکوائری کی سفارش
رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل نے مالی بے ضابطگیوں کی مکمل چھان بین اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کی سفارش کی ہے، تاکہ سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں اور قانون کے مطابق کارروائی ممکن ہو۔
یہ تمام نکات آڈٹ رپورٹ میں بیان کردہ اعتراضات اور مبینہ مالی نقصانات سے متعلق ہیں۔ ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ حکام کی تحقیقات، ریکارڈ کی جانچ اور قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
اہم نوٹ: خبر میں دی گئی رقوم اور اعدادوشمار فراہم کردہ متن سے لیے گئے ہیں۔ اشاعت سے قبل اصل آڈٹ رپورٹ، متعلقہ مالی سال اور مجموعی نقصان کی رقم کی تصدیق ضروری ہے، کیونکہ بعض درج شدہ رقوم کے باہمی مجموعے اور رپورٹ میں بیان کردہ مجموعی نقصان میں فرق ہو سکتا ہے۔
پشاور: خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت کے دوران محکمہ معدنیات میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ قدرت روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں مالی سال 2022 اور 2023 کے دوران مختلف معاملات میں ایک سال کے دوران 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔
غیر قانونی کان کنی سے اربوں روپے کا نقصان
رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی کے ذریعے سرکاری خزانے کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ نادہندہ ٹھیکے داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات وصول نہیں کیے گئے۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ محکمہ معدنیات کی چیک پوسٹوں، انسپکٹرز اور متعلقہ عملے کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی کان کنی جاری رہی، جس کے نتیجے میں مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے کے نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بجری، ریت اور معدنیات کے واجبات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی
رپورٹ کے مطابق شاہراہوں اور اسمال ڈیمز کی تعمیر کے نام پر بجری اور ریت کے غیر قانونی اخراج سے 3 ارب 7 کروڑ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی۔
آڈٹ میں معدنیات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 54 کروڑ 72 لاکھ روپے کی عدم وصولی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مزید برآں کوئلہ، باکسائٹ، لائم اسٹون اور سوپ اسٹون کی کانوں سے متعلق 81 کروڑ روپے سے زائد کے بقایاجات معاف کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سرکاری زمین انتہائی کم نرخوں پر دینے کا انکشاف
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پشاور میں محکمہ معدنیات کی سرکاری زمین مقررہ 10 ہزار روپے فی ایکڑ کے بجائے مبینہ طور پر صرف 200 روپے فی ایکڑ پر فراہم کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو 14 کروڑ روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔
رپورٹ میں کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، ہری پور اور دیگر اضلاع میں اسمال ڈیمز سے متعلق واجبات وصول نہ کیے جانے کے باعث 53 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کی نشاندہی بھی کی گئی۔ اسی طرح مردان میں رائلٹی کی مد میں 6 کروڑ 36 لاکھ روپے کی عدم وصولی کا ذکر کیا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی انکوائری کی سفارش
رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل نے مالی بے ضابطگیوں کی مکمل چھان بین اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کی سفارش کی ہے، تاکہ سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں اور قانون کے مطابق کارروائی ممکن ہو۔
یہ تمام نکات آڈٹ رپورٹ میں بیان کردہ اعتراضات اور مبینہ مالی نقصانات سے متعلق ہیں۔ ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ حکام کی تحقیقات، ریکارڈ کی جانچ اور قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
اہم نوٹ: خبر میں دی گئی رقوم اور اعدادوشمار فراہم کردہ متن سے لیے گئے ہیں۔ اشاعت سے قبل اصل آڈٹ رپورٹ، متعلقہ مالی سال اور مجموعی نقصان کی رقم کی تصدیق ضروری ہے، کیونکہ بعض درج شدہ رقوم کے باہمی مجموعے اور رپورٹ میں بیان کردہ مجموعی نقصان میں فرق ہو سکتا ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں