پولیس
بٹل پولیس حراست میں مبینہ تشدد: عدالت کا ایس ایچ او سمیت تین اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
06-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
29 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: بٹل تھانے میں تین نوجوانوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے میں ایڈیشنل سیشن جج مانسہرہ کی عدالت نے ایس ایچ او بٹل بشیر تنولی سمیت تین پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالتی حکم کے مطابق بٹل پولیس نے مبینہ طور پر تین نوجوانوں کو کسی ایف آئی آر اور تھانے کے ریکارڈ میں اندراج کے بغیر تقریباً 15 روز تک حراست میں رکھا اور اس دوران انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ نے مبینہ غیر قانونی حراست اور تشدد کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج مانسہرہ کی عدالت سے رجوع کیا تھا۔
درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے متاثرہ نوجوانوں کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، جس کی روشنی میں عدالت نے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم جاری کیا۔
عدالت نے ایس ایچ او بٹل بشیر تنولی، شعبۂ تفتیش کے انچارج گل نواز خان اور تفتیشی افسر محمد ارشد کے خلاف مبینہ کسٹڈیئل ٹارچر، غیر قانونی حراست اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی مزید قانونی کارروائی متعلقہ قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پولیس حراست میں مبینہ تشدد اور غیر قانونی حراست کے معاملات پر عدالتی نگرانی اور قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
تاہم نامزد پولیس افسران کی جانب سے ان الزامات پر مؤقف یا وضاحت تاحال سامنے نہیں آئی۔ معاملے میں مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد حقائق مزید واضح ہوں گے۔
نوٹ: غیر قانونی حراست اور تشدد سے متعلق الزامات متاثرہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ کی درخواست اور عدالتی کارروائی سے منسلک ہیں۔ حتمی ذمہ داری کا تعین مزید قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔
عدالتی حکم کے مطابق بٹل پولیس نے مبینہ طور پر تین نوجوانوں کو کسی ایف آئی آر اور تھانے کے ریکارڈ میں اندراج کے بغیر تقریباً 15 روز تک حراست میں رکھا اور اس دوران انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ نے مبینہ غیر قانونی حراست اور تشدد کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج مانسہرہ کی عدالت سے رجوع کیا تھا۔
درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے متاثرہ نوجوانوں کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، جس کی روشنی میں عدالت نے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم جاری کیا۔
عدالت نے ایس ایچ او بٹل بشیر تنولی، شعبۂ تفتیش کے انچارج گل نواز خان اور تفتیشی افسر محمد ارشد کے خلاف مبینہ کسٹڈیئل ٹارچر، غیر قانونی حراست اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی مزید قانونی کارروائی متعلقہ قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پولیس حراست میں مبینہ تشدد اور غیر قانونی حراست کے معاملات پر عدالتی نگرانی اور قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
تاہم نامزد پولیس افسران کی جانب سے ان الزامات پر مؤقف یا وضاحت تاحال سامنے نہیں آئی۔ معاملے میں مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد حقائق مزید واضح ہوں گے۔
نوٹ: غیر قانونی حراست اور تشدد سے متعلق الزامات متاثرہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ کی درخواست اور عدالتی کارروائی سے منسلک ہیں۔ حتمی ذمہ داری کا تعین مزید قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں