پولیس
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع اور پولیس منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری
24-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
29 وزٹ
Read in English
پولیس کے جاری منصوبوں، تکنیکی اپ گریڈیشن، پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر و بحالی اور انسدادِ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطیر رقم مختص؛ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار۔
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران دہشت گردی سے متاثرہ مخصوص اضلاع اور پولیس کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ رقوم کا مقصد پولیس کی استعداد کار میں اضافہ، جدید تکنیکی سہولیات کی فراہمی، پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر و بحالی اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
دستاویزات کے مطابق صوبائی پولیس کے جاری منصوبوں کے بقایا فنڈز بھی جاری کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
پولیس کے جاری منصوبوں کے لیے فنڈز
دستاویز کے مطابق صوبائی پولیس کے 9 منصوبوں کے لیے ایک ارب 3 کروڑ 68 لاکھ 75 ہزار روپے، جبکہ تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کی اسکیموں کے لیے 4 ارب 26 کروڑ 75 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
اسی طرح دہشت گردی سے متاثرہ مخصوص اضلاع میں پولیس کی تکنیکی اپ گریڈیشن کے لیے ایک ارب 86 کروڑ 75 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے لیے الگ الگ ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
پولیس اسٹیشنوں اور تربیتی سہولیات کی تعمیر
پولیس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کے اجرا کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
صوبے کی ہر تحصیل اور ٹاؤن ہیڈکوارٹر میں ماڈل پولیس اسٹیشنوں کی فزیبلٹی اسٹڈی اور تعمیر کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے۔
ہنگو پولیس ٹریننگ کالج میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے۔
پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر و بحالی کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے۔
انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کے علاقائی ہیڈکوارٹرز کی فزیبلٹی اسٹڈی اور تعمیر کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے۔
صوبے میں پولیس کے بنیادی ڈھانچے کی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے۔
چارسدہ، مردان اور پشاور کے منصوبے
دستاویزات کے مطابق چارسدہ میں پولیس اسٹیشن مندنی کی تعمیر کے لیے 3 کروڑ روپے، جبکہ مردان میں 5 پولیس چوکیوں کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
صوبے میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے ضلعی نظام اور پشاور میں علاقائی ہیڈکوارٹر کی تعمیر کے لیے 60 کروڑ 48 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ پشاور پولیس لائنز کی موجودہ عمارت کی بحالی، ڈھانچے کی مرمت، تبدیلی اور توسیع کے لیے 18 کروڑ 87 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ٹانک میں پولیس لائنز کے لیے زمین کے حصول کے سلسلے میں عدالتی طور پر طے شدہ واجبات کی ادائیگی کے لیے 4 کروڑ 70 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔
اخراجات مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہوں گے
دستاویز کے مطابق جاری کیے گئے فنڈز متعلقہ منصوبوں اور سرگرمیوں پر مقررہ طریقۂ کار اور مدت کے اندر خرچ کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں کا مقصد پولیس کے انتظامی اور عملی نظام کو بہتر بنانا اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا کا دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
دوسری جانب انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو مضبوط بنانے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کام جاری ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور اس ناسور کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔ آئی جی خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکاروں کی بے پناہ قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
پولیس کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کا اجرا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران دہشت گردی سے متاثرہ مخصوص اضلاع اور پولیس کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ رقوم کا مقصد پولیس کی استعداد کار میں اضافہ، جدید تکنیکی سہولیات کی فراہمی، پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر و بحالی اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
دستاویزات کے مطابق صوبائی پولیس کے جاری منصوبوں کے بقایا فنڈز بھی جاری کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
پولیس کے جاری منصوبوں کے لیے فنڈز
دستاویز کے مطابق صوبائی پولیس کے 9 منصوبوں کے لیے ایک ارب 3 کروڑ 68 لاکھ 75 ہزار روپے، جبکہ تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کی اسکیموں کے لیے 4 ارب 26 کروڑ 75 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
اسی طرح دہشت گردی سے متاثرہ مخصوص اضلاع میں پولیس کی تکنیکی اپ گریڈیشن کے لیے ایک ارب 86 کروڑ 75 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے لیے الگ الگ ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
پولیس اسٹیشنوں اور تربیتی سہولیات کی تعمیر
پولیس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کے اجرا کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
صوبے کی ہر تحصیل اور ٹاؤن ہیڈکوارٹر میں ماڈل پولیس اسٹیشنوں کی فزیبلٹی اسٹڈی اور تعمیر کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے۔
ہنگو پولیس ٹریننگ کالج میں آڈیٹوریم کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے۔
پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر و بحالی کے لیے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے۔
انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کے علاقائی ہیڈکوارٹرز کی فزیبلٹی اسٹڈی اور تعمیر کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے۔
صوبے میں پولیس کے بنیادی ڈھانچے کی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے۔
چارسدہ، مردان اور پشاور کے منصوبے
دستاویزات کے مطابق چارسدہ میں پولیس اسٹیشن مندنی کی تعمیر کے لیے 3 کروڑ روپے، جبکہ مردان میں 5 پولیس چوکیوں کی تعمیر کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
صوبے میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے ضلعی نظام اور پشاور میں علاقائی ہیڈکوارٹر کی تعمیر کے لیے 60 کروڑ 48 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ پشاور پولیس لائنز کی موجودہ عمارت کی بحالی، ڈھانچے کی مرمت، تبدیلی اور توسیع کے لیے 18 کروڑ 87 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ٹانک میں پولیس لائنز کے لیے زمین کے حصول کے سلسلے میں عدالتی طور پر طے شدہ واجبات کی ادائیگی کے لیے 4 کروڑ 70 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔
اخراجات مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہوں گے
دستاویز کے مطابق جاری کیے گئے فنڈز متعلقہ منصوبوں اور سرگرمیوں پر مقررہ طریقۂ کار اور مدت کے اندر خرچ کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں کا مقصد پولیس کے انتظامی اور عملی نظام کو بہتر بنانا اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا کا دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
دوسری جانب انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو مضبوط بنانے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کام جاری ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور اس ناسور کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔ آئی جی خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکاروں کی بے پناہ قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
پولیس کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کا اجرا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں