Mansehra.com مانسہرہ ڈاٹ کام
26 ربیع الثانی 1448 ہجری جمعہ، 9 اکتوبر 2026·25 اسو
آج کی حدیث رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا، جمعہ کا دن ہے۔“ 854 حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر
تازہ ترین
پولیس

لاہور: تین گھنٹوں میں تین ایف آئی آر، 13 سال بعد پیدا ہونے والے بیٹے کے باپ کا ’جعلی مقابلہ‘ — ایف آئی اے نے 7 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا

09-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 30 وزٹ
Read in English
لاہور – لاہور کے رہائشی محمد رضوان کے ہاں شادی کے 13 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا، جو ابھی صرف تین ماہ کا تھا۔ 18 جولائی 2024ء کی رات رضوان اپنے بھائی مبین کے ہمراہ قصور فیروز پور روڈ سے لاہور آ رہے تھے کہ تھانہ مصطفیٰ آباد (للیانی) کی پولیس نے انہیں ناکے پر روک لیا۔
پولیس سے تلخ کلامی کے بعد دونوں بھائیوں کو تھانے لے جایا گیا۔ رات دس بجے کی بات ہے۔
تین گھنٹوں میں تین ایف آئی آر
وکیل اور متاثرہ خاندان کے مطابق:
· رات 10:30 پر رضوان پر پہلی ایف آئی آر ڈکیتی کی درج کی گئی۔
· ٹھیک پانچ منٹ بعد دوسری ایف آئی آر درج کی گئی۔
· تین گھنٹے بعد پولیس نے اپنے ایک ٹاؤٹ سے 15 پر جعلی کال کروائی کہ اس کے ساتھ ڈکیتی ہو رہی ہے۔
بعد ازاں ایف آئی اے انکوائری میں ثابت ہوا کہ اس کالر کی لوکیشن تھانے کے آس پاس تھی اور وہ اپنے دوسرے نمبر سے پولیس سے مسلسل رابطے میں تھا۔
چنانچہ رات گئے تیسری ایف آئی آر بھی درج کر دی گئی۔
پنڈلی پر گولی اور ’مقابلہ‘
اسی تیسری ایف آئی آر کے سلسلے میں پولیس رضوان کو تھانے سے باہر لے گئی اور اس کی پنڈلی پر گولی مار دی۔
پولیس کا دعویٰ تھا کہ رضوان ڈکیتی کر رہا تھا، اور 15 کال کے ریسپانس میں پولیس پہنچی تو رضوان اپنے ایک صابر نامی ساتھی کی فائرنگ سے زخمی پڑا تھا۔
وکیل کے مطابق، رضوان رات دس بجے سے پولیس کی حراست میں تھا، اس لیے یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔
پولیس کئی گھنٹے زخمی رضوان کو ٹانگ سے شدید بہتے خون کے ساتھ ادھر ادھر گھماتی رہی، اور بالآخر وہ انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔
اہل خانہ کو اطلاع
دونوں بھائیوں کے اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی علم نہ تھا۔
اگلے روز پولیس نے ان کے ایک بھائی عرفان کو کال کی کہ "آپ کے بھائی کا انکاؤنٹر ہو گیا ہے۔ دوسرا بھائی زیرِ حراست ہے، اسے تب چھوڑیں گے جب آپ لکھ کر دیں کہ پولیس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔"
عرفان نے فی الوقت لاش لینے سے انکار کر دیا اور مقامی مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ اسے سیف سٹی، تھانے اور ہسپتال کے کیمروں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے، جو لے لیا گیا۔
ایف آئی اے میں درخواست
مقتول رضوان کا بھائی عرفان قانونی کارروائی کے لیے کافی عرصہ عدالتوں اور پولیس افسران کے دفاتر میں چکر کاٹتا رہا۔
بالآخر اس نے "انسدادِ ٹارچر و قتل زیرِ حراست ملزمان قانون" کے تحت ایف آئی اے کو درخواست دی کہ اس کے بھائی رضوان کو پولیس نے حراست کے دوران جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا ہے، ایف آئی آر درج کی جائے۔
ایف آئی اے نے پھر ٹال مٹول سے کام لیا، جس پر معاملہ ایک بار پھر سیشن کورٹ پہنچا تو عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔
عدالت کے حکم میں کہا گیا کہ ایک شہری جس کا سابقہ کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے، اس پر چند گھنٹوں میں تین تین ایف آئی آر دے کر اسے ریکارڈ یافتہ ملزم بنا کر اس کا مبینہ جعلی پولیس مقابلہ کر دیا گیا۔
تفتیش کی منتقلی
جب ایف آئی اے لاہور کی جانب داری سامنے آئی تو عرفان نے مقدمہ کی تفتیش تبدیل کرنے کی درخواست دی۔
عدالت کے حکم پر تفتیش ایف آئی اے گوجرانوالہ کو سپرد کر دی گئی۔
ایف آئی اے نے تیسری ایف آئی آر کو تفتیش کا محور بنایا، جس میں پولیس کے مطابق وقوعہ ساڑھے چار بجے کا ہے۔
جبکہ عرفان کی حاصل کردہ ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں نظر آتا ہے کہ پولیس ساڑھے تین بجے سے پہلے ہی رضوان کو مردہ حالت میں ہسپتال لا چکی تھی۔
ایف آئی اے نے ایس ایچ او حسن عمران سمیت 7 پولیس اہلکاروں کو گناہ گار ٹھہرایا۔
ضمانتوں کی کہانی
ان ملزمان نے قصور سیشن کورٹ سے گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی تھی، جسے انہوں نے 9 ماہ لٹکائے رکھا۔
جب وہاں سے ضمانت خارج ہوئی تو ملزمان نے لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت لے لی، جسے مزید کئی ماہ کھینچ کر گرفتاری سے بچتے رہے۔
بالآخر پچھلے ہفتے لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت خارج کی، تو انہوں نے اپنے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ساتھیوں کی مدد سے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
تاہم وکلاء کی مداخلت سے یہ کوشش ناکام ہوئی، جس سے کچھ ہاتھا پائی کی افسوسناک صورتحال بھی پیدا ہوئی۔
گرفتاری اور ریمانڈ
ایف آئی اے نے ان تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
اگلے دن گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے انہیں 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا، اور آج ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
عرفان کا مؤقف
عرفان کہتے ہیں:
"میرا بھائی تو واپس نہیں آ سکتا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کسی اور کا بھائی یوں بے گناہ نہ مارا جائے۔"
ایک اہم سوال
وکیل کے مطابق ایس ایچ او حسن عمران کو شاید اسی "کارکردگی" کی بنا پر بعد میں سی سی ڈی میں بھی تعینات کیا گیا۔
مقتول رضوان کے بھائی نے تنِ تنہا دو سال سے زائد جدوجہد کے بعد آج ملزمان کو جیل بھجوا یا ہے۔
اندازہ کیجیے کہ اس طرح کتنے ہی بے گناہ رضوان جعلی مقابلوں کی بھینٹ چڑھ کر پولیس افسران کی شاباشی اور ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ایک عام آدمی کے لیے اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا کتنا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔
#کورٹ_کہانی
از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، لاہور

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔