پولیس
مانسہرہ: تھانہ پھلڑہ کی حدود حسو میں بچوں کی معمولی لڑائی پر تین افراد قتل، مبینہ ملزم ایک ماہ گزرنے کے باوجود گرفتار نہ ہو سکا
22-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
37 وزٹ
Read in English
مقتولین کے ورثاء کا ڈی پی او مانسہرہ سے نوٹس لینے اور ملزم کی گرفتاری یقینی بنانے کا مطالبہ
مانسہرہ: تھانہ پھلڑہ کی حدود میں واقع علاقے حسو میں بچوں کی معمولی لڑائی کے نتیجے میں فائرنگ کے واقعے میں تین افراد کے قتل اور دو افراد کے زخمی ہونے کے مقدمے میں مبینہ ملزم کی ایک ماہ گزرنے کے باوجود گرفتاری عمل میں نہ آنے پر مقتولین کے ورثاء نے ڈی پی او مانسہرہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں فیاض ولد محمد مسکین، سکنہ حسو پھلڑہ، نے بتایا کہ بچوں کی معمولی لڑائی کے دوران نثار ولد محمد مسکین نے مبینہ طور پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ، ان کے بھائی اور ان کے بھائی کے سسر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کا بیٹا اور بھاوج زخمی ہوئے۔
فیاض کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ پھلڑہ میں درج ہے، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود نامزد ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔
مقتولین کے ورثاء نے ڈی پی او مانسہرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مقدمے کی مؤثر پیروی کی جائے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔
نوٹ: خبر میں بیان کردہ الزامات شکایت کنندہ کے مؤقف پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
مانسہرہ: تھانہ پھلڑہ کی حدود میں واقع علاقے حسو میں بچوں کی معمولی لڑائی کے نتیجے میں فائرنگ کے واقعے میں تین افراد کے قتل اور دو افراد کے زخمی ہونے کے مقدمے میں مبینہ ملزم کی ایک ماہ گزرنے کے باوجود گرفتاری عمل میں نہ آنے پر مقتولین کے ورثاء نے ڈی پی او مانسہرہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں فیاض ولد محمد مسکین، سکنہ حسو پھلڑہ، نے بتایا کہ بچوں کی معمولی لڑائی کے دوران نثار ولد محمد مسکین نے مبینہ طور پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ، ان کے بھائی اور ان کے بھائی کے سسر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کا بیٹا اور بھاوج زخمی ہوئے۔
فیاض کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ پھلڑہ میں درج ہے، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود نامزد ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔
مقتولین کے ورثاء نے ڈی پی او مانسہرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مقدمے کی مؤثر پیروی کی جائے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔
نوٹ: خبر میں بیان کردہ الزامات شکایت کنندہ کے مؤقف پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں